سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 206

سيرة النبي علي 206 جلد 4 رسول کریم ﷺ کی زندگی کے متفرق واقعات وو صلى الله حضرت مصلح موعود 8 نومبر 1935ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب صلح حدیبیہ کے لئے تشریف لے گئے تو مکہ کا ایک رئیس کفار کی طرف سے آپ سے گفتگو کرنے کیلئے آیا۔وہ مکہ والوں کا اتنا بڑا محسن تھا کہ اس کا دعوی تھا کہ مکہ کا کوئی آدمی ایسا نہیں جس پر میرا کوئی احسان نہ ہو۔یہ اپنے آپ کو وادی مکہ کا باپ سمجھتا تھا اور یہی شان دکھانے کے لئے اُس نے رسول کریم ﷺ کی داڑھی کو ہاتھ لگایا اور کہا میں تم سے کہتا ہوں کہ یہ لوگ جو تم نے اپنے ارد گرد جمع کر لئے ہیں تمہارے کام نہیں آئیں گے آخر تمہاری قوم ہی ہے جو تمہارے کام آئے گی پس تم اپنی قوم کی بات مان لو۔جونہی اس نے رسول کریم علی کی ریش مبارک کو ہاتھ لگا یا ایک صحابی نے زور سے اپنی تلوار کا کندہ اُس کے ہاتھ پر مارا اور کہا ہاتھ پرے کر ! کیوں تو اپنا نا پاک ہاتھ رسول کریم ﷺ کے مقدس جسم سے چھوتا ہے۔اُس نے نظر اٹھائی اور کہا کیا تو وہ شخص نہیں جس کے خاندان پر فلاں موقع پر میں نے احسان کیا تھا؟ یہ سخت نازک موقع تھا مگر احسان کا لفظ سن کر اُس صحابی کی آنکھیں نیچی ہو گئیں اور وہ جھٹ پیچھے ہو گیا۔تب اُس نے سمجھا کہ اب میں نے میدان صاف کر لیا۔تب اُس نے وہی بات کہہ کر رسول کریم ﷺ کی ریش مبارک کو ہاتھ لگایا۔اس پر پھر ایک صحابی نے بڑے زور سے تلوار کا کندہ اُس کے ہاتھ پر مارا اور کہا کیوں تو اپنے ناپاک ہاتھ رسول کریم ﷺ کے مقدس جسم سے چھوتا ہے ؟ اُس نے نظر اٹھائی مگر دیکھ کر نگاہ نیچی کر لی اور کہا تمہارے خلاف میں کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ الله