سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 202

سيرة النبي علي 202 جلد 4 عشق رسول اور رسول کریم علی کا ایک معجزہ حضرت مصلح موعود نے یکم نومبر 1935ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔”ہمارے آقا و سردار محمد مصطفے اللہ کو تو عَلَى الْإِغلان گالیاں دی جاتی ہیں مگر مسلمانوں میں طاقت نہیں کہ اس کا ازالہ کر سکیں۔اس حالت کا علاج ایک ہی صورت میں ممکن تھا کہ خدا تعالیٰ پھر ایک آواز آسمان سے اٹھائے جو پھر اسلام کی عزت قائم کرے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے دیکھا کہ امت محمدیہ کے دل اور ہاتھ مفلوج ہو چکے ہیں اور ان کے اندر عشق کی آگ نہیں رہی تو اُس نے اپنا مامور بھیج دیا تا دائمی غیرت مسلمانوں کے اندر پیدا کرے۔عارضی غیرت بھی دنیا میں بڑے بڑے کام کرا لیتی ہے جیسے بغداد کے برائے نام بادشاہ سے کرا دیا مگر یہ غیرت ایمان کی علامت نہیں۔اگر ایمانی غیرت ہوتی تو اسلام کے دن اُسی وقت پھر جاتے مگر انہوں نے عورت کو چھڑایا اور پھر سو گئے۔ایسی عارضی غیرت سے اسلام زندہ نہیں ہو سکتا۔اسلام اُس غیرت سے زندہ ہوتا ہے جو کبھی مٹ نہ سکے۔اُس آگ سے زندہ ہو سکتا ہے جو کبھی سرد نہ ہو سکے جب تک کہ سارے جہاں کو جلا کر راکھ نہ کر دے۔اُس زخمی دل سے ہوسکتا ہے جو کبھی اند مال نہ پائے، اُسے وہ دیوانہ زندہ کر سکتا ہے جس کی دیوانگی پر ہزار فرزانگیاں قربان کی جاسکیں۔یہی دیوانگی پیدا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیا میں تشریف لائے اور اسی روح کو آپ کی زندگی میں ہم نے مشاہدہ کیا۔آپ کے اندر سوتے جاگتے ، اٹھتے بیٹھتے ، کھاتے پیتے ، چلتے پھرتے ہم نے دیکھا کہ ایک آگ تھی جس کا مقصد یہ تھا کہ