سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 203

سيرة النبي الله صلى اللهم 203 جلد 4 محمد رسول اللہ علیہ کی عزت کو دنیا میں دوبارہ قائم کیا جا سکے۔آج نادان اعتراض صلى الله کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رسول کریم ﷺ کی پتنگ کی۔مگر ہمیں تو معلوم ہے کہ آپ کو کس طرح ہر وقت آنحضرت علیہ کی عزت قائم کرنے کی دھن لگی رہتی تھی۔مجھے ایک بات یاد ہے جو گو اس وقت تو مجھے بری ہی لگی تھی مگر آج اس میں بھی ایک لذت محسوس کرتا ہوں۔ہمارے بڑے بھائی مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم ایک دفعہ باہر سے یہاں آئے۔ابھی تک اُنہوں نے بیعت کا اعلان نہیں کیا تھا۔میں اُن سے ملنے گیا میرے بیٹھے بیٹھے ہی ڈاک آئی۔اُس زمانہ میں توہین مذاہب کے قانون کا مسودہ تیار ہو رہا تھا۔اس سے بات چل پڑی تو مرزا سلطان احمد صاحب کہنے لگے اچھا ہوا بڑے مرزا صاحب فوت ہو گئے۔(وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بڑے مرزا صاحب کہا کرتے تھے ) ورنہ سب سے پہلے وہ جیل جاتے کیونکہ اُنہوں نے حضرت رسول کریم ﷺ کی توہین کو برداشت نہیں کرنا تھا۔اُس وقت تو یہ بات مجھے بری لگی کیونکہ اس میں بے ادبی کا پہلو تھا مگر اس سے اُس محبت کا اظہار ضرور ہوتا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضرت ﷺ سے تھی۔تو ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کو دیکھا۔آپ ایک آگ میں کھڑے تھے وہی آگ آپ نے ورثہ میں ہمیں دی ہے اور جس احمدی میں وہ آگ نہیں وہ آپ کا صحیح روحانی بیٹا نہیں۔میں کہہ رہا تھا کہ ایک سال کا عرصہ یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دی گئیں اور کہا گیا کہ فرعونی حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے گا۔گالیاں تو آپ کو ہمیشہ ہی دی جاتی ہیں مگر یہ آواز قادیان میں سخت گستاخی اور دل آزار طریق پر اٹھائی گئی۔ہمارے کانوں نے اسے سنا اور ہمارے دلوں کو اس نے زخمی کر دیا اور جماعت میں ایک عام جوش اور اس کے نتیجہ میں کام کرنے کا ایک عام ولولہ پیدا ہو گیا مگر میں آپ لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ کیا وہ زخم ابھی تک ہرا ہے یا مندمل ہو رہا ہے ؟ جس کا زخم