سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 200

سيرة النبي علي 200 جلد 4 کچھ ملا وہ رسول کریم ﷺ کے طفیل اور آپ کی شاگردی سے ملا تھا۔اور آپ کی بعثت کا مقصد صرف اسلام کی اشاعت اور قرآن کریم کی عظمت کا قیام اور رسول کریم علی کے فیضان کو جاری کرنا تھا اور جیسا کہ آپ نے خود فرمایا ہے ایں چشمہ رواں کہ خلق خدا دہم یک قطره از بحر کمال محمد است این آتشم ز آتش ز آتش مهر محمد یست ویں آب من ز آب زلال محمد است 1 الله آپ جونور دنیا میں پھیلاتے تھے وہ رسول کریم ﷺ کے نور کا ایک شعلہ تھا اور بس۔آپ رسول کریم ع سے جدا نہ تھے اور نہ ان کے مدمقابل۔اور اسی طرح یہ کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دنیا کے دوسرے سب مقامات سے جن میں قادیان بھی شامل ہے افضل اور اعلی ہیں اور ہم احمدی بحیثیت جماعت ان دونوں مقامات کی گہری عزت اپنے دلوں میں رکھتے ہیں اور ان کی عزت پر اپنی عزت کو قربان کرتے ہیں اور آئندہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔اور میں خدائے واحد و قہار کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اس اعلان میں کوئی جھوٹ نہیں بول رہا۔میرا دل سے یہی ایمان ہے اور اگر میں جھوٹ سے یا اخفا یا دھوکا سے کام لے رہا ہوں تو میں اللہ تعالیٰ سے عاجزانہ دعا کرتا ہوں کہ:۔اے خدا! ایک جماعت کا امام ہونے کے لحاظ سے اس قسم کا دھوکا دینا نہایت خطر ناک فساد پیدا کر سکتا ہے۔پس اگر میں نے اوپر کا اعلان کرنے میں جھوٹ ، دھو کے یا چالبازی سے کام لیا ہے تو مجھ پر اور میرے بیوی بچوں پر لعنت کر۔لیکن اگر اے خدا! میں نے یہ اعلان سچے دل سے اور نیک نیتی سے کیا ہے تو پھر اے میرے رب ! یہ جھوٹ جو بانی سلسلہ احمدیہ کی نسبت، میری نسبت اور سب جماعت احمدیہ کی نسبت بولا جاتا ہے تو اس کے ازالہ کی خود ہی کوئی تدبیر کر اور اس ذلیل دشمن کو جو ایسا گندہ الزام ہم پر