سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 197

سيرة النبي علي 197 جلد 4 تھیں کہ اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کے لئے اپنی زندگی کو قربان کر دے، اپنی حیات کی تمام ساعات کو خدا تعالیٰ کے دین اور اُس کے جلال کے لئے وقف کر دے تو اُسے خدا ضائع نہیں کرتا۔كَلَّا وَاللَّهِ مَا يُخْزِيْكَ اللهُ ابدا خدا کی قسم ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا یہ خطرات سب خیالی ہیں خدا آپ کو رسوا نہیں کر سکتا کیونکہ إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَ تَصْدَقُ الْحَدِيث وَ تَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ وَتَقْرِى الضَّيْفَ وَ تُعِيْنُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ 1۔آپ رشتہ داروں سے حسن سلوک کرتے ،سچائی کو اختیار کرتے اور ان اخلاق کو ظاہر کرتے ہیں جو سارے ملک میں مفقود ہیں۔پھر مہمانوں کی عزت کرتے اور مصیبت زدوں کی امداد کرتے ہیں۔گویا یہ پانچ باتیں ایسی تھیں جنہوں نے حضرت خدیجہ کے قلب پر اتنا گہرا اثر کیا ہوا تھا کہ وہ خیال بھی نہیں کر سکتی تھیں کہ کبھی خدا آپ کو ضائع کر سکتا ہے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی نسبت بھی آتا ہے کہ جب رسول کریم ہو نے دعوی نبوت کیا تو اُس وقت آپ مکہ میں نہیں تھے بلکہ باہر کسی گاؤں میں گئے ہوئے تھے جیسے ہمارے ہاں گھی وغیرہ لینے کے لئے بعض دفعہ آدمی پاس کے گاؤں میں چلا جاتا ہے۔جب آپ واپس آئے تو آپ ایک دوست کے گھر میں اُسے ملنے کے لئے تشریف لے گئے۔وہاں باتوں باتوں میں اس کی لونڈی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگی ہے! تیرا دوست تو آج کل پاگل ہو گیا۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کون؟ اُس نے رسول کریم ﷺ کا نام لیا اور کہا وہ کہتا ہے آسمان سے فرشتے مجھے پر نازل ہوتے ہیں اور خدا مجھ سے باتیں کرتا ہے۔آپ نے جب یہ بات سنی تو اُسی وقت کھڑے ہو گئے ، چادر جو تھوڑی دیر پہلے کندھے سے اتاری تھی پھر سنبھال لی اور سیدھے رسول کریم ﷺ کے پاس پہنچے اور دروازہ پر دستک دی۔آپ باہر تشریف لائے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں نے سنا ہے کہ آپ دعویٰ کرتے ہیں خدا کے فرشتے آپ پر اترتے اور خدا کا پیغام دیتے ہیں کیا یہ درست ہے؟ رسول کریم ﷺ نے