سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 195

سيرة النبي عمال 195 جلد 4 کیوں نہیں دیتے ؟ صحابہ نے عرض کیا يَا رَسُولَ اللَّهِ ! کیا کہیں؟ آپ نے فرمایا کہو اللهُ عَزَّ وَجَلَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ۔تم ہیل کو لئے پھرتے ہو مبل تو کوئی چیز نہیں اللہ ہی ہے جو عزت و جلال والا اور اسی کا نام دنیا میں بلند ہے 2۔تو دیکھو کتنے نازک الله مقام پر رسول کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے لئے غیرت کا مظاہرہ فرمایا۔دشمن مسلمانوں کی کمزوری کو دیکھ کر انہیں چیلنج کرتا ہے اور کہتا ہے ہم نے محمد ﷺ کو مار دیا ، ابو بکر اور عمر کو مار دیا مگر رسول کریم ﷺ صحابہ کی کمزور حالت کو دیکھ کر فرماتے ہیں خاموش رہو اور جواب مت دو۔مگر جونہی خدا کا نام آتا ہے اور مہبل کی فتح جتائی جاتی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ سے فرماتے ہیں خاموش کیوں ہو ، بولو اللهُ عَزَّ وَجَلَّ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ۔تو اللہ تعالیٰ کی ذات سے مومن کو جو محبت ہوتی ہے اس کے مقابلہ میں کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی۔“ (الفضل 24 اکتوبر 1935ء) 1: السيرة النبوية لابن هشام الجزء الثانى شأن أنس بن النضر صفحه 862 مطبوعہ دمشق 2005 ، الطبعة الاولى 2 بخاری کتاب المغازی باب غزوة احدصفحہ 685،684 حدیث نمبر 4043 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية