سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 194

سيرة النبي عمال 194 جلد 4 زندہ ہیں۔صحابہ نے آپ کو اٹھایا اور جب آپ کو ہوش آیا تو آپ تمام مسلمانوں کو ایک پہاڑ کی طرف لے گئے اُس وقت چونکہ تمام صحابہ زخموں سے چور تھے اور بہت کم ایسے تھے جو تندرست ہوں اس لئے رسول کریم ﷺ نے صحابہ کو ہدایت فرمائی کہ خاموش رہو دشمن کو خواہ مخواہ برانگیختہ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ابوسفیان جو کفار کا کمانڈر تھا مسلمانوں کی یہ حالت دیکھ کر بولا دیکھا! ہم نے بدر کا بدلہ لیا یا نہیں؟ الله پھر کہا دیکھو ہم نے تمہارے محمد (ﷺ) کو مار دیا۔بعض صحابہ اس پر بولنے لگے مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا چپ رہو بولنے کی کیا ضرورت ہے۔جب مسلمانوں نے اس کا کوئی جواب نہ دیا تو وہ کہنے لگا کیا تم میں ابوبکر زندہ ہے ؟ ( میں اس جگہ ضمناً یہ بات صلى الله بتا دیتا ہوں کہ ابوسفیان کے ان سوالات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم علیہ کی زندگی میں کفار تک بھی یہ سمجھتے تھے کہ رسول کریم ﷺ کے بعد حضرت ابو بکر ہی مسلمانوں صلى میں اعلیٰ حیثیت رکھتے ہیں اور آپ کی وفات کے بعد انہی کا وجود مسلمانوں کے لئے نقطۂ اجتماع ہوسکتا ہے ) رسول کریم ﷺ نے پھر صحابہ سے فرمایا خاموش رہو جواب دینے کی ضرورت نہیں۔جب ابو سفیان کو اس بات کا بھی جواب نہ ملا تو کہنے لگا ہم نے ابو بکر کو بھی مار دیا۔پھر اُس نے پوچھا کیا تم میں عمر زندہ ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جواب دینے لگے تو رسول کریم ﷺ نے پھر فرمایا چپ رہو۔جب اس بات کا بھی ابوسفیان کو کوئی جواب نہ ملا تو وہ کہنے لگا ہم نے عمر کو بھی مار دیا۔پھر اُس نے تکبر سے نہایت بلند آواز سے نعرہ لگایا اور کہا اُعْلُ هُبَل۔اُعْلُ هُبَل۔ٹمبل ان کا دیوتا تھا جس کی وہ پرستش کیا کرتے تھے مطلب یہ تھا کہ آج واحد خدا کے پرستار مبل کی پرستش کرنے والوں کے سامنے تباہ ہو گئے اور ٹمبل جیت گیا۔صحابہ اس پر خاموش رہے الله کیونکہ رسول کریم ﷺ انہیں بار بار یہ ہدایت دے چکے تھے کہ چپ رہو۔مگر جب ابوسفیان نے اُعُلُ هُبل کا نعرہ لگایا اور فخریہ کہا کہ ایک خدا کے مقابلہ میں ہبل جیت گیا تو رسول کریم علیہ نے بڑے جوش سے صحابہ کی طرف دیکھا اور فرمایا تم جواب