سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 193

سيرة النبي عمال 193 جلد 4 کفار کی شکست کا ذکر کرتے انہیں اور زیادہ جوش آتا۔اور وہ کہتے میں اگر ہوتا تو آپ لوگ دیکھتے کہ کیا کرتا۔بظاہر یہ متکبرانہ دعویٰ ہے مگر کبھی عشق میں چور ہو کر اس قسم کے الفاظ انسان کے منہ سے نکل جاتے ہیں۔عام طور پر یہ فقرات منافقوں کے منہ سے نکلا کرتے ہیں مگر کبھی کبھی نہایت جو شیلے مومن بھی جب سنتے ہیں کہ وہ کسی خدمت دین کے خاص موقع سے محروم رہ گئے ہیں تو اُس وقت وہ اپنا جوش اس قسم کے الفاظ سے نکالتے ہیں کہ اگر ہم ہوتے تو یوں کرتے۔اسی جذبہ کے ماتحت یہ صحابی جب دوسرے صحابہ کی جرات کا کوئی واقعہ سنتے تو کہا کرتے کہ تم نے کچھ بھی نہ کیا میں اگر ہوتا تو دکھا تا کہ کس طرح جنگ کیا کرتے ہیں۔احد کی جنگ میں یہ بھی شامل تھے چونکہ اس جنگ میں مسلمانوں کو پہلے ہی فتح ہوئی تھی وہ مطمئن ہو کر ایک طرف کھڑے ہو گئے تھے اور کھجوریں کھا رہے تھے۔کھجور میں کھاتے ہوئے انہوں نے کیا دیکھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک پتھر کے اوپر بیٹھے ہیں اور اُن کی آنکھوں سے آنسو رواں ہیں۔انہوں نے پوچھا عمر ! کیا ہوا روتے کیوں ہو؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا رسول کریم اللہ شہید ہو گئے ہیں۔وہ اُس وقت آخری کھجور کھانے لگے تھے اور منہ کی طرف لے جارہے تھے کہ جو نہی انہوں نے یہ بات سنی کھجور اپنے ہاتھ سے پھینک دی اور کہا میرے اور جنت کے درمیان کیا صرف یہی ایک کھجور حائل نہیں ؟ پھر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا مجھے آپ پر تعجب ہے رسول کریم ﷺ اگر شہید ہو گئے ہیں تو آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں جہاں وہ گئے ہم بھی وہیں جائیں گے۔یہ کہتے ہوئے انہوں نے اپنی تلوار ہاتھ میں لی اور میدانِ جنگ میں کود پڑے۔اور اتنی بہادری سے لڑے کہ جب وہ لڑتے لڑتے شہید ہوئے تو بعد میں ان کے جسم پر تلوار کے ستر زخم دیکھے گئے 1۔غرض صحابہ جوشِ ایمان سے باوجود ظاہری کمزوری کے اور پاؤں اکھڑ جانے صلى الله کے پھر ا کٹھے ہو گئے اور جب انہوں نے نعشوں کو ہٹایا تو دیکھا کہ رسول کریم علی