سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 186

سيرة النبي م 186 جلد 4 فوجیں مالدار، دولت مند اور ساز وسامان رکھنے والی تھیں۔جب فوجیں مکہ کے قریب پہنچیں تو اس لاؤ لشکر کو دیکھ کر مکہ والوں کو کچھ بھی نہ سوجھا اور وہ چپ ہو کر بیٹھ گئے۔ابرہہ نے ایک چھوٹا سا دستہ آگے بھیجا جو مکہ والوں کے بہت سے جانور جو باہر چر رہے تھے سمیٹ کر لے آیا۔ان جانوروں میں دوسو اونٹ حضرت عبدالمطلب کے بھی تھے۔اس کے بعد ابرہہ کے لشکر میں بیماری پھیل گئی اور اُس کی فوج کے لوگ لیے پے در پے مرنے لگے تو اسے یہ خیال آیا کہ مکہ والے اگر مجھ سے آکر کہیں کہ میں واپس چلا جاؤں تو میں واپس لوٹ جاؤں گا۔تاریخوں سے ثابت ہے کہ وہ بیماری چیچک تھی۔بہر حال کوئی نہ کوئی موت ایسی تھی جس نے ابرہہ کے لشکر کو تباہ کر دیا۔قرآن کریم میں بھی سورۃ الفیل میں اس کا ذکر آتا ہے۔ہر طرف لاشیں ہی لاشیں نظر آتی تھیں جانوران کی بوٹیاں نوچ نوچ کر پتھروں پر مارتے اور کھاتے تھے جس طرح چیلیں اور گدھیں کھاتی ہیں۔جب بیماری نے اس کے لشکر کے اکثر حصہ کو نا کارہ کر دیا تو اُس نے اپنی عزت رکھنے کے لئے اہل مکہ کو کہلا بھیجا کہ بعض سردار میرے پاس بھیجے جائیں میں اُن سے گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔انہوں نے ایک وفد بھیجا جس کے سردار عبدالمطلب تھے جب وفد اُس کے پاس پہنچا اور حضرت عبدالمطلب نے ان سے باتیں کیں تو ان کی باتوں کا ابرہہ پر نہایت گہرا اثر پڑا اور سیاسیات میں ان کی رائے کو اُس نے نہایت ہی صائب اور معقول پایا۔اور اس امید میں رہا کہ ابھی یہ مجھ سے کہیں گے کہ خانہ کعبہ پر حملہ نہ کیا جائے اور لشکر واپس لے جائیں اور میں ان کے سراحسان رکھ کر واپس چلا جاؤں گا مگر حضرت عبدالمطلب نے اس کا ذکر تک نہ کیا۔آخر کچھ دن انتظار کرنے کے بعد ابرہہ خود ہی کہنے لگا میرا دل چاہتا ہے آپ لوگ مجھ سے کچھ مانگیں تو میں دوں۔اسے پھر بھی یہی خیال رہا کہ یہ کہیں گے آپ خانہ کعبہ کو گرانے کا ارادہ ترک کر دیں اور واپس چلے جائیں۔وہ چونکہ اب لشکر ڈالے تنگ آچکا تھا اس لئے گفتگو کو ہیر پھیر کر اسی طرف لانا چاہتا تھا مگر حضرت عبدالمطلب