سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 187
سيرة النبي عمال 187 جلد 4 نے اس کا جواب صرف یہ دیا کہ میرے دوسو اونٹ آپ کے سپاہی پکڑ کر لے آئے ہیں وہ مجھے واپس کر دئیے جائیں۔یہ سن کر جیسے انسان دنگ رہ جاتا ہے اُس کا رنگ فق ہو گیا اور کہنے لگا آپ کی باتوں کا مجھ پر بڑا اثر تھا اور میں سمجھتا تھا کہ آپ بڑے ہی سمجھدار ہیں مگر آپ کی اس بات سے وہ سارا اثر جاتا رہا ہے۔انہوں نے پوچھا کس طرح؟ اُس نے کہا تمہارے سامنے اس وقت اتنی خوفناک مصیبت ہے کہ میں تمہارے کعبہ کو گرانے آیا ہوں اور کہتا ہوں کہ مجھ سے جو مانگنا ہو مانگو مگر تم بجائے یہ کہنے کے کہ ہمارا کعبہ مت گراؤ یہ کہتے ہو کہ میرے دوسو اونٹ واپس کر دیے جائیں۔بھلا ایسے خطرے کی حالت میں اونٹوں کا خیال کرنا بھی کوئی عقلمندی ہے؟ حضرت عبدالمطلب نے جواب دیا اصل بات یہ ہے کہ تم نے میری بات پر غور نہیں کیا ور نہ اسی سے جواب سمجھ جاتے۔عبدالمطلب صرف دوسو اونٹوں کا مالک ہے جب اسے اپنے اونٹوں کی فکر پڑ گئی تو کیا تم سمجھتے ہو کہ خانہ کعبہ کے مالک خدا کو اپنے گھر کی کوئی فکر نہیں؟ میں جانتا ہوں کہ اگر یہ کعبہ خدا کا گھر ہے تو اس گھر کا مالک اس کی آپ حفاظت کرے گا مجھے اس کی فکر کی کیا ضرورت ہے 3۔اس میں شبہ نہیں کہ انسانوں کا کام بھی ہوتا ہے کہ وہ شعائر اللہ کی حفاظت میں حصہ لیں مگر یہ محض ثواب کے لئے ہوتا ہے اصل حفاظت وہی ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ خود کرتا ہے۔رسول کریم ﷺ کے ساتھ خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ تھا کہ میں آپ کو دشمنوں کے حملوں سے بچاؤں گا مگر باوجود اس کے صحابہؓ نے رسول کریم ﷺ کے گرد پہرے دیئے۔مگر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ صحابہؓ کے پہروں کی وجہ سے رسول کریم ﷺ کی جان محفوظ رہی۔کیا ہزاروں بادشاہ مضبوط پہروں کے ہوتے ہوئے قتل نہیں ہو گئے ؟ پھر کون کہہ سکتا ہے کہ صحابہؓ کے پہروں کی وجہ سے رسول کریم ﷺ کی حفاظت ہوئی۔رسول کریم ﷺ کی حفاظت محض خدا تعالیٰ نے کی۔ہاں ثواب کے لئے صحابہ نے بھی اس میں حصہ لے لیا۔اسی طرح اگر خدانخواستہ خانہ کعبہ پر کوئی دشمن حملہ کر دے تو گو الله