سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 179

سيرة النبي عمال 179 جلد 4 یا ہزار کی تعداد میں اپنے آدمی پیش کریں۔شرط صرف یہ ہے کہ جن لوگوں کو وہ اپنی طرف سے پیش کریں وہ ایسے ہوں جو حقیقت میں ان کے نمائندہ ہوں۔اگر وہ جاہل اور بیہودہ اخلاق والوں کو اپنی طرف سے پیش کریں تو ہمیں اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہو گا بشرطیکہ وہ یہ تسلیم کر لیں کہ وہ ان کی طرف سے نمائندہ ہیں۔ہاں احرار کے سرداروں کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ اس میں شامل ہوں مثلاً مولوی عطاء اللہ شاہ صاحب شامل ہوں ، مولوی حبیب الرحمن صاحب شامل ہوں ،مسٹر مظہر علی صاحب اظہر شامل ہوں ، چودھری افضل حق صاحب شامل ہوں، مولوی داؤ د غزنوی صاحب شامل ہوں اور ان کے علاوہ اور لوگ جن کو وہ منتخب کریں شامل ہوں۔پھر کسی ایسے شہر میں جس پر فریقین کا اتفاق ہو یہ مباہلہ ہو جائے۔مثلاً گورداسپور میں ہی یہ مباہلہ ہوسکتا ہے جس مقام پر انہیں خاص طور پر ناز ہے یا لا ہور میں اس قسم کا اجتماع ہوسکتا ہے۔ہم قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم پر اور ہمارے بیوی بچوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا گر ہم رسول کریم ﷺ پر کامل یقین نہ رکھتے ہوں ، آپ کو خاتم النبیین نہ سمجھتے ہوں، آپ کو افضل الرسل یقین نہ کرتے ہوں اور قرآن کریم کو تمام دنیا کی ہدایت و راہنمائی کے لئے آخری شریعت نہ سمجھتے ہوں۔اس کے مقابلہ میں وہ قسم کھا کر کہیں کہ ہم یقین اور وثوق سے کہتے ہیں کہ احمدی رسول کریم ﷺ پر ایمان نہیں رکھتے نہ آپ کو دل سے خاتم النبیین سمجھتے ہیں اور آپ کی فضیلت اور بزرگی کے قائل نہیں بلکہ آپ کی تو ہین کرنے والے ہیں۔اے خدا! اگر ہمارا یہ یقین غلط ہے تو ہم پر اور ہمارے بیوی بچوں پر عذاب نازل کر۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے خود بخود فیصلہ ہو جائے گا کہ کون سا فریق اپنے دعوی میں سچا ہے، کون رسول کریم ماہ سے حقیقی عشق رکھتا ہے اور کون دوسرے پر جھوٹا الزام لگاتا ہے مگر یہ شرط ہو گی کہ عذاب انسانی ہاتھوں سے نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو اور ایسے سامانوں سے ہو جو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کئے جاسکیں۔صلى الله