سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 176
سيرة النبي علي 176 جلد 4 رسول کریم ﷺ کی عظمت و احترام اور مقام وو صلى الله حضرت مصلح موعود 30 اگست 1935ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔ہمارے متعلق کہتے ہیں کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرنے والے ہیں یا کہتے ہیں کہ ہم حضرت عیسی علیہ السلام کی توہین کرتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں اگر کسی کے اندر ایک ذرہ بھر بھی تخم دیانت ہو تو وہ ہمارے لٹریچر کو پڑھ کر یہ خیال بھی نہیں کر سکتا کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرت عیسی علیہ السلام کی ہتک کرنے والے ہیں۔ہمارے عقائد بالکل واضح ہیں اور ہماری کتابیں بھی چھپی ہوئی موجود ہیں۔ان کو پڑھ کر کون ہے جو یہ کہہ سکے کہ ہم نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ رسول کریم ﷺ کی ہتک کرتے ہیں۔ہاں دشمن یہ کہ سکتا ہے کہ گو الفاظ میں یہ لوگ رسول کریم ﷺ کی عزت کرتے ہیں مگر ان کے دلوں میں آپ کا ادب نہیں مگر اس صورت میں ہمارا یہ پوچھنے کا حق ہوگا کہ وہ کون سے ذرائع ہیں جن سے کام لے کر انہوں نے ہمارے دلوں کو پھاڑ کر دیکھ لیا اور معلوم کر لیا کہ ان میں حقیقتا رسول کریم علی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بہتک کے جذبات ہیں۔رسول کریم ﷺ کا ادب اور احترام جو ہمارے دلوں میں ہے میں سمجھتا ہوں مخالفوں کے لئے اس کے پہچاننے کے دو طریق ہو سکتے ہیں ان دو طریق میں سے کسی ایک کو دشمن اختیار کر کے دیکھ لے اسے معلوم الله ہو جائے گا کہ ہمارے دلوں میں رسول کریم ﷺ کی محبت ہے یا نہیں۔مثلاً ایک تو یہ ہے کہ ہندوؤں ،سکھوں اور عیسائیوں میں سے ایسے لوگ جو ہمارے ساتھ ملنے جلنے والے ہوں سو، دوسو، چارسو، پانچ سو یا ہزار تلاش کر لئے جائیں اور ان ہزار سے کہا صلى الله