سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 169

سيرة النبي عمال 169 جلد 4 کے ساتھ رہ گئے اُس وقت چار ہزار تجربہ کار تیر انداز جھاڑیوں میں بیٹھے تیروں کی بارش برسا رہے تھے ، سپاہی سب بھاگ چکے تھے اور یہی وقت لیڈر کی بہادری ظاہر ہونے کا تھا۔صحابہ نے آپ سے عرض کیا کہ يَارَسُولَ اللَّهِ! یہ آگے بڑھنے کا وقت نہیں جب تک لشکر دوبارہ جمع نہ ہو آپ بھی واپس چلیں حتی کہ ایک مخلص نے آگے بڑھ کر آپ کی سواری کی باگ پکڑ لی کہ خطرہ کی حالت ہے آگے جانا درست نہیں مگر آپ نے سواری کو ایڑھ لگائی اور أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِب أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِب 2 کہتے ہوئے آگے بڑھے۔اس کا مطلب یہ تھا کہ میں سچا نبی ہوں جھوٹا نہیں ہوں ، ایسے موقع پر بھاگ نہیں سکتا اور پھر تم یہ بھی خیال نہ کرنا کہ میں اپنے اندر خدائی طاقتیں رکھتا ہوں میں انسان ہوں اور عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔آخر اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان کر دیئے کہ لشکر پھر جمع ہو گیا اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی لیکن رسول کریم علی نے اپنے عمل سے بتا دیا کہ آپ کسی خطرہ سے نہیں ڈرتے تھے مگر باوجود اس کے بدر کے موقع پر صحابہ نے بڑے اصرار سے آپ کے لئے پیچھے جگہ بنائی اور ایک تیز رو اونٹنی پاس باندھ دی اور عرض کیا يَا رَسُولَ اللہ ! مدینہ میں بعض ہمارے بھائی ہیں جنہیں علم نہ تھا کہ ایسی خطرناک جنگ ہونے والی ہے ورنہ وہ لوگ ہم سے کم اخلاص رکھنے والے نہ تھے ، وہ سب یہاں آتے ، اب کفار کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ہم تھوڑے ہیں ، ان کے پاس سامان بہت ہے اور ہمارے پاس کم ممکن ہے ہم مارے جائیں اس لئے ہم نے تیز ترین اونٹنی آپ کے پاس باندھ دی اور گارد مقرر کر دی ہے جو آخری دم تک آپ کی حفاظت کرے گی۔لیکن اگر گارد کے آدمی بھی مارے جائیں تو آپ اس اونٹنی پر سوار ہو کر مدینہ میں پہنچ جائیں وہاں ایک ایسی جماعت ہے جو اسلام کے لئے اپنے خون کا آخری قطرہ بہا دے گی 3۔صحابہ نے اُس وقت یہ نہیں کہا کہ آپ تو خدا کے رسول ہیں ، خدا کی خاص حفاظت میں ہیں، آپ کو نمونہ دکھانا