سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 166

سيرة النبي مله 166 جلد 4 صلى الله صلى الله لگتی ہے اور وہ فوراً کسی لائق طبیب سے مشورہ لے لیتے ہیں۔پھر بسا اوقات مرض کا بڑھنا انسان کے اندر شفا کا مادہ پیدا کر دیتا ہے اسی طرح ظلم بھی جب حد سے گزرتا ہے تو وہ علاج کا موجب ہو جاتا ہے۔رسول کریم ﷺ کو مکہ والے ایک وقت تک دکھ دیتے رہے اور دوسرے لوگ دیکھتے ہوئے خاموش رہے۔ان میں بھی ایسے شرفاء موجود تھے جو مکہ والوں کے رویہ کو نا پسند کرتے تھے مگر سمجھتے تھے کہ مسلمانوں نے خود ہی ایک نیا مذہب نکالا ہے اور پھوٹ ڈال دی ہے جس کے وہ خود ذمہ دار ہیں ہم کیا کریں اس طرح وہ اپنے دلوں کو تسلی دے لیتے۔یہاں تک کہ ظلم بڑھتے بڑھتے ایک وقت ایسا آیا کہ پورے طور پر رسول کریم ﷺ ، آپ کے رشتہ داروں اور صحابہ کا بائیکاٹ کر دیا گیا اور آپ ان کو ساتھ لے کر ایک وادی میں چلے گئے۔وہاں ان کی نظر بندوں کی سی حالت تھی اور یہ کوئی ایک دن، دو دن ، ہفتہ دو ہفتہ، مہینہ دو مہینہ کی بات نہ تھی بلکہ سالہا سال تک یہ حالت چلی گئی۔کفار نے فیصلہ کیا کہ کوئی شخص ان کے ہاتھ نہ کوئی چیز فروخت کرے اور نہ ان سے خریدے۔نہ خرید نے تک تو برداشت کیا جاسکتا تھا مگر فروخت نہ کرنے کا نتیجہ یہ تھا کہ انہیں کھانے کے لئے بھی کچھ نہ مل سکتا۔مکہ میں زمینداری تو ہوتی نہیں قافلہ والوں کو ممانعت تھی کہ مسلمانوں کے پاس کوئی چیز فروخت نہ کریں اس طرح انہیں نہ آٹا مل سکتا اور نہ کوئی اور چیز گویا ان کے لئے زندگی کے سب سامان بند کر دیئے گئے۔اس طرح مسلمانوں پر یہ مصائب بڑھتے گئے حتی کہ ایک صحابی کہتے ہیں آخر وہ دن آ گئے کہ چونکہ کھانے پینے کو کچھ نہ ملتا تھا ہمیں آٹھ آٹھ دس دس روز پاخانہ نہ آتا تھا اور چونکہ پتے وغیرہ کھا کر گزارہ کرتے تھے اس لئے جب آتا تو مینگنیاں سی ہوتی تھیں 1۔انہی تکالیف کے صدمہ سے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا فوت ہو گئیں اور دوسرے صحابہ کو بھی اس قسم کے بہت سے صدمات برداشت کرنے پڑے لیکن آخر یہ ظلم ہی ظالم کی طاقت کو توڑنے کا موجب بن گیا کیونکہ جب بات یہاں تک پہنچی تو وہ طبائع جو مختلف باتوں سے اپنے دلوں کو تسلی