سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 4

سيرة النبي عمال 4 جلد 4 خطرناک آفت سے بچائی جاتی ہیں اور ان بھیا نک مناظر کے دیکھنے سے سگ گزیدہ کے رشتہ دار بچ جاتے ہیں جو اس سے پہلے ان کو دیکھنے پڑتے تھے۔آ تشک کی مرض بھی قریباً لا علاج تھی لیکن گو مختلف علاجوں سے بعض دفعہ ظاہری علامات مٹ جاتی تھیں مگر اس موذی مرض کا اثر جسم میں باقی رہتا تھا اور صحت ہمیشہ کے لئے برباد ہو جاتی تھی۔مگر سالورسن اور نیو سالورسن کی ایجاد سے اس عظیم الشان خطرہ سے بھی بنی نوع انسان نے نجات پالی ہے اور اب ہزاروں آدمی اس کے زندگی کے تباہ کرنے والے زہر سے بکلی پاک ہو جاتے ہیں اور کارآمد زندگی بسر کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔پتھری کی مرض کیسی خطرناک تھی اور جب تک اس کا آپریشن کرنے کا طریق معلوم نہیں ہوا اس کا مریض کس طرح اپنے سامنے یقینی موت دیکھتا تھا۔اس سے قریباً ہر ملک کے لوگ واقف ہیں۔گھیگے کی مرض کو مہلک نہ ہو مگر کیسی بدنما ہوتی ہے۔درحقیقت اس مرض سے زندگی تلخ ہو جاتی ہے اور شکل نہایت بری اور ڈراؤنی معلوم ہوتی ہے اور شاید بہت ہوں جو اس مرض کی وجہ سے موت کو زندگی پر ترجیح دیں مگر اس کا کوئی علاج نہ تھا یہاں تک کہ آپریشن نکلا اور آپریشن کے بعد بھی یہ مرض بار بار عود کر آتی تھی۔یہاں تک کہ ہومیو پیتھک علاج سے اس مرض کا ازالہ کر دینا پوری طرح ممکن ہو گیا اور آٹو ہیمک (Autohemic) علاج نے تو اس کا ایک ایسا یقینی علاج بنی نوع انسان کے ہاتھ میں دے دیا کہ اب یہ مرض بالکل معمولی رہ گئی ہے اور بعض ڈاکٹروں کا تجربہ ہے کہ قریباً ننانوے فیصدی مریض بلا خطرہ کے پوری طرح شفا پا جاتے ہیں اور اس مرض کے عود کرنے کا بھی کوئی خطرہ نہیں رہتا اور نہ صرف گھیگا ہی دور ہو جاتا ہے بلکہ تھائرائڈ گلینڈز کے ورم کی وجہ سے عام صحت پر جو اثر پڑتا رہتا ہے وہ بھی دور ہو جاتا ہے۔