سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 161
سيرة النبي عمال 161 جلد 4 کہتے ہیں کہ ان کے لئے جان قربان کرنے کے لئے تیار ہوں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ رسول کریم ﷺ کی شاگردی کے تعلق سے آپ کی اولاد کا اس درجہ پاس کرتے تھے۔غرض رسول کریم ﷺ کی جو عزت ہمارے دل میں ہے اسے مدنظر رکھتے ہوئے ہم تسلیم ہی نہیں کر سکتے کہ کسی اور کے دل میں اس سے بڑھ کر رسول کریم ﷺ کی عزت ہو سکتی ہے۔پھر دیکھو رسول کریم ﷺ کی عزت بچانے اور آپ کی تو قیر قائم کرنے کے لئے آگے ہم آتے ہیں یا وہ؟ جب رسول کریم ﷺ کو دوسرے مذاہب کے بد زبان لوگ گالیاں دیتے ہیں تو کون ان گالیوں کو رد کرنے کے لئے اٹھتا ہے اور اس کے مقابلہ میں رسول کریم ﷺ کی خوبیاں دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔پھر انگلستان، افریقہ، امریکہ اور دوسرے ممالک میں ہم جاتے ہیں تا کہ وہاں کے لوگوں کو رسول کریم ﷺ کی غلامی میں داخل کریں یا وہ۔عجیب بات ہے کہ رسول کریم ہے سے محبت تو اُن کو ہو لیکن آپ کی شان میں بدزبانی کرنے والوں کی حرکات سے ہمارے دلوں میں پیدا ہو۔صلى الله حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے نمونہ سے بتا دیا ہے کہ آپ رسول کریم ے کے متعلق کتنی غیرت رکھتے تھے۔آپ ایک دفعہ لا ہور تشریف لے گئے۔لیکھرام جو مشہور آریہ تھا آپ سے ملنے کے لئے آیا اور اُس نے آ کر سلام کہا۔آپ نے کوئی جواب نہ دیا۔پھر اُس نے سلام کیا ، پھر بھی آپ نے جواب نہ دیا۔تیسری دفعہ اُس نے سلام کیا پھر بھی آپ نے توجہ نہ کی۔اس پر کسی نے آپ سے کہا پنڈت لیکھرام سلام کہتے ہیں۔اس پر آپ نے نہایت غصہ سے کہا اسے شرم نہیں آتی میرے آقا کو تو گالیاں دیتا ہے اور مجھے سلام کرتا ہے۔ہم پر رسول کریم ﷺ کی ہتک کرنے کا الزام لگانے والوں میں سے کتنے ہیں جو ایسا کرنے کے لئے تیار ہوں۔ان میں سے کئی ایسے ہیں جو رسول کریم عملے کے شدید مخالفوں کی دعوتیں کھا لیتے اور انہیں اپنے گھروں میں عزت سے بٹھاتے ہیں اور