سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 2 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 2

سيرة النبي عمال 2 جلد 4 طرف ہندوستان اور ایران اُس زمانہ کے حالات کے مطابق علم طب کے اچھے خاصے علم بردار تھے اور بائیں طرف یونانی مگر وہ ان کے بیچ میں رہ کر بھی اس علم سے بالکل کورا تھا۔اس جماعت کا ایک فرد آج سے تیرہ سو سال پہلے کہتا ہے کہ لِكُلِّ دَاءِ دَوَاءٌ إِلَّا المَوت ہر ایک مرض خواہ کوئی ہو اس کا علاج اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے پس انسان ہر مرض کے صدمہ سے بیچ سکتا ہے لیکن اگر وہ یہ چاہے کہ اس طرح وہ مرضوں سے بچ کرموت سے بچ جائے تو وہ ایسا نہیں کر سکتا۔کیا اس تعلیم کی نسبت یہ خیال کیا جاسکتا ہے کہ وہ عرب کے حالات سے متولد ہوئی تھی عرب تو بیچارے طب سے بالکل ہی ناواقف تھے۔خود یونانی جنہوں نے علم طب کو ترقی دیتے دیتے کمال تک پہنچا دیا تھا سینکڑوں بیماروں کو لا علاج قرار دیتے تھے۔رسول کریم ﷺ کی راہنمائی کا اثر پھر کیا اس تعلیم کو اس زمانہ کے صلى الله حالات سے متولّد قرار دیا جا سکتا ہے جب کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے اس حقیقت کے اظہار کے بعد بھی سینکڑوں سال تک دنیا اس تعلیم کی حقیقت نہیں سمجھی اور اٹھارویں صدی عیسوی تک تمام اقسام طب بیسیوں امراض کو لاعلاج خیال کرتی رہیں۔نہیں اور یقیناً نہیں کیونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر اس حکمت کے جاری ہونے کے گیارہ سو سال بعد جا کر دنیا کو اپنی غلطی پر کسی قدر تنبیہ ہوئی اور دوسو سال کی لمبی جد و جہد کے بعد وہ آج اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ ہر ایک مرض کا علاج موجود ہے اور جن امراض کا علاج اس وقت تک نہیں بھی معلوم ہو سکا ان کو بھی ہم معلوم کر لیں گے کیونکہ یکے بعد دیگرے ہمارے اس خیال کی کہ فلاں اور فلاں امراض لا علاج ہیں نیچر تر دید کرتی چلی گئی ہے۔چھلی دو سو سال کی علمی ترقی نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس بات کی صداقت پر مُہر لگا دی ہے کہ ہر ایک مرض کی دوا موجود ہے اور آج ہم بہت سے