سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 1
سيرة النبي عليه 1 بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ جلد 4 آنحضور ﷺ کا کلمہ حکمت کہ ہر مرض کی دوا ہے حضرت مصلح موعود کا ایک مضمون الفضل 21 فروری 1933ء کے شمارہ میں شائع ہوا جس میں آپ تحریر فرماتے ہیں :۔د میں اس حکمت کی طرف توجہ دلاتا ہوں یعنی لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ إِلَّا الْمَوْتِ 1 جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ہر ایک مرض کا علاج بلا استثنا اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے مگر باوجود اس کے انسان موت سے نہیں بچ سکتا۔بیماریاں دور کی جاسکتی ہیں مگر موت کو ٹلایا نہیں جا سکتا۔انسان آخر مرتا ہے اور ضرور مرتا ہے آئندہ مرے گا اور ضرور مرے گا۔یہ کلام ہے جو بانی اسلام کے منہ پر آج سے تیرہ سو سال پہلے جاری ہوا اور ان لوگوں کے سامنے بیان کیا گیا جو اس کی پوری حقیقت کو سمجھنے کی قابلیت بھی نہیں رکھتے تھے بلکہ اُس زمانہ میں جاری ہوا جس کے ایک ہزار سال بعد سخت جدو جہد سے علوم دنیوی اس مقام پر پہنچے جہاں سے وہ اس حکمت کی صرف شبیہ دیکھنے کے قابل ہو سکے۔عرب موت کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا تھا اور اس کی جنگی اور آزاد زندگی اسے بیماریوں سے بچائے رکھتی تھی۔پس علم طب اس کی نظروں سے پوشیدہ تھا اور اس علم سے صرف چند نسخے جو عورتیں سینہ بسینہ یا د رکھتی چلی آتی تھیں اس کے حصہ میں آئے تھے اور اگر باوجود اس کی جنگی زندگی کے وہ بیمار ہوتا تو وہ اسے دیوتاؤں کا غضب سمجھ کر یا ستاروں کا اثر خیال کر کے شفا سے مایوس ہو جاتا تھا اور اسے پیغام اجل سمجھ کر اپنی قسمت پر قناعت کرتے ہوئے ہر قسم کی جدو جہد کو ترک کر دیتا تھا۔اس کے دائیں