سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 145
سيرة النبي علي 145 جلد 4 صحابہ رسول کریم ﷺ کے پاس رہ گئے۔اُس وقت دشمن کی تعداد چار ہزار کے قریب تھی اور وہ برابر تیراندازی میں مصروف تھا۔صحابہ نے جب یہ حالت دیکھی تو انہوں صلى الله نے رسول کریم میلے سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اب ٹھہرنے کا موقع نہیں اور صلى الله بعضوں نے تو رسول کریم ع کے گھوڑے کی باگ پکڑ لی اور عرض کیا اب حضور کو آگے نہیں بڑھنا چاہئے۔مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا مجھے چھوڑ دو۔پھر آپ نے گھوڑے کو ایڑ لگاتے ہوئے دشمن کی طرف بڑھایا اور فرمایا:۔أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِب أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِب 1 میں خدا کا سچا نبی ہوں جس میں جھوٹ نہیں۔مگر چونکہ یہ خیال پیدا ہوسکتا تھا کہ چار ہزار کی تعداد میں دشمن سامنے ہے اور وہ برابر تیراندازی میں مصروف ہے۔صرف باره آدمی رسول کریم عملے کے ارد گرد رہ جاتے ہیں اور وہ آپ سے عرض کرتے ہیں کہ اب آگے بڑھنا مناسب نہیں مگر باوجود اس کے آپ بڑھتے چلے جارہے ہیں تو ممکن ہے آپ میں انسانیت سے بالا کوئی بات ہو اس لئے فرمایا اَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِب - میرے اندر کوئی خدائی طاقتیں نہیں میں تو صرف عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔اُس وقت جب صرف بارہ آدمی رسول کریم ﷺ کے پاس رہ گئے آپ نے حضرت عباس کو بلایا۔ان کی آواز بہت بلند تھی۔جب وہ آگئے تو آپ نے فرمایا اے عباس! بلند آواز سے پکارو کہ اے انصار ! خدا کا رسول تمہیں بلاتا ہے۔یہ وقت تھا جس میں صحابہؓ کو عبودیت کے اظہار کا موقع ملا کیونکہ لشکر منتشر ہو چکا تھا اور افراد پراگندہ ہو چکے تھے۔اونٹ اور گھوڑے اور دوسرے جانور بھاگے چلے جارہے تھے اور اس قسم کا ان پر خوف طاری تھا کہ وہ واپس لوٹنے کے لئے تیار نہ تھے۔ایسے نازک موقع پر جبکہ منتشر شدہ لشکر کا دوبارہ جمع ہونا بظاہر ناممکن اور محال نظر آتا تھا جب حضرت عباس نے آواز دی کہ اے انصار! خدا کا رسول تمہیں بلاتا ہے تو خدا کے رسول کی آواز سنتے ہی صحابہ کھڑے ہو گئے۔ایک صحابی کی روایت ہے کہ اُس وقت لشکر میں اس قسم کا تہلکہ مچا ہوا