سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 143

سيرة النبي علي 143 جلد 4 رسول کریم میہ پر طائف میں پتھر برسائے گئے فرمایا:۔8 اپریل 1934ء کو فیصل آباد میں خطاب کے دوران حضرت مصلح موعود نے دو پس یہ مت خیال کرو کہ خدا اس بات کا محتاج ہے کہ بندے اس کا نام پھیلانے کے لئے بے جا جوش دکھائیں اور خلاف اخلاق حرکات کریں اس سے دین کی کبھی ترقی نہیں ہو سکتی۔غور تو کرو دنیا میں جو تمام بزرگ گزرے ہیں وہ پتھر مارنے والے تھے یا کھانے والے؟ کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہوا جس نے دوسروں پر پتھر پھینکے ہوں اور کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہوا جس پر مخالفین نے تشدد نہ کیا ہو۔مسلمان خوب الله جانتے ہیں کہ رسول کریم عمل یہ طائف میں پتھروں کی جھولی بھر کر نہ لے گئے تھے بلکہ طائف والوں نے آپ پر پتھر برسائے تھے 1۔جولوگ خدا تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں ان کے دل نرم ہو جاتے ہیں، وہ ماریں کھاتے ہیں مگر پھر بھی منہ سے یہی کہتے جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے۔“ ( تحقیق حق کا صحیح طریق مطبوعہ 30 ستمبر 1934 ء) 66 1: السيرة الحلبية الجزء الثاني صفحه 54،53 مطبوعہ بیروت 2012 ء