سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 142

سيرة النبي علي 142 جلد 4 وہ ایسا کہتا ہے تو ٹھیک کہتا ہے۔اگر آپ کا پہلا کیریکٹر خدا تعالیٰ کے خاص تصرف کے ماتحت بے عیب نہ ہوتا تو کیوں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو ایک منٹ کے لئے شبہ پیدا نہ ہوا۔آپ اسی وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مکان پر گئے اور دستک دی۔آپ باہر تشریف لائے تو حضرت ابو بکر نے کہا میں ایک بات پوچھنے آیا ہوں۔آپ نے کوئی ایسا دعویٰ کیا ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیال کیا معلوم نہیں میرے دعوی کو سن کر اس پر کیا اثر ہوا ہے اس لئے کچھ دلائل بیان کرنے لگے لیکن حضرت ابو بکر نے کہا مجھے دلائل کی ضرورت نہیں صرف یہ فرما ئیں کہ آپ نے دعوی کیا ہے یا نہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں کیا ہے۔حضرت ابوبکر نے فوراً کہہ دیا میں اس تحقیق حق کا صحیح طریق مطبوعہ 30 ستمبر 1934ء) پر ایمان لاتا ہوں۔1:هود: 18 2:يونس: 17 66