سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 137

سيرة النبي عمال 137 جلد 4 گمراہ ہوگا گویا تمام وہ لوگ جو آپ کے زمانہ میں ہوئے یا آپ کے بعد وہ آپ کا کلمہ پڑھنے سے قبل گمراہ ہیں۔اب غور کرنا چاہئے کہ اگر حضرت عیسی علیہ السلام دوبارہ آئیں تو اس آیت کے ماتحت وہ کیا ہوں گے۔اس آیت سے تو معلوم ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے بعد کوئی ایک لمحہ بھی دنیا پر ایسا نہیں آیا اور نہ آئے گا کہ جب آپ کے بغیر بھی کوئی شخص ہدایت یافتہ کہلا سکے گا ، جو بھی ہدایت لے گا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لے گا۔تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عیسی علیہ السلام نَعُوذُ بِاللهِ ضلال میں سے آئیں گے؟ غور کرو! اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کا عقیدہ رکھ کر اس امر سے انکار کیا جائے تو قرآن کریم کی آیت غلط ٹھہرتی ہے اور اگر یہ مانا جائے تو اس طرح حضرت عیسی علیہ السلام کی ہتک ہے۔تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کام یہ ہے کہ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ التِ گویا غیر اللہ کی آیات نہیں سنا سکتے۔یہ تو عام بات ہے کہ شاگرد کا کام استاد کی طرف تو منسوب ہو سکتا ہے اور اس وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ ہدایت حاصل کرنے والے مصلحین کا کام اور ان کا آیات پڑھنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب ہوسکتا ہے لیکن جو آپ کی بعثت سے قبل کا پڑھا ہوا ہو اس کا کام آپ کی طرف کیونکر منسوب ہوسکتا ہے۔مثلاً میں نے جو کچھ پڑھا ہے یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پڑھا ہے کیونکہ اگر آپ نہ پڑھتے تو میں کس طرح پڑھ سکتا لیکن حضرت عیسی دوبارہ آ کر جو تلاوت آیات کریں گے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ تو آپ کی بعثت سے پہلے کے ہی پڑھے ہوئے ہیں۔پھر فرماتا ہے وَ يُزَكِّيهِمْ یعنی آپ سب کا تزکیہ کریں گے۔اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حضرت عیسی نَعُوذُ بِاللهِ گندے ہو کر آئیں گے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کا تزکیہ کریں گے؟ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے بعد آپ کے بغیر کوئی