سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 134

سيرة النبي عمال۔134 جلد 4 شہادت کی خبر مدینہ میں بھی پہنچ گئی۔اس واقعہ کے چند گھنٹے بعد آپ مدینہ واپس آگئے لیکن آپ کی آمد سے قبل عورتیں اور بچے سب روتے اور ہلکتے ہوئے شہر سے باہر نکل آئے۔ایک صحابی گھوڑا دوڑاتے ہوئے سب سے آگے جا رہے تھے۔وہ جب ان عورتوں کے پاس پہنچے تو ان میں سے ایک نے سوال کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کیا حال ہے؟ اس نے چونکہ آپ کو اپنی آنکھوں سے زندہ دیکھا تھا اور اس کے دل سے بوجھ ہٹ چکا تھا اس لئے اس نے سوال کا جواب تو نہ دیا بلکہ یہ کہا کہ تیرا باپ مارا گیا ہے۔مگر اس عورت نے کہا میں نے باپ کا تم سے کب پوچھا ہے مجھے تو یہ بتاؤ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ صحابی کا دل چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زندہ ہونے کی خوشی سے بھرا ہوا تھا اس لئے پھر اس نے اس کے سوال کی طرف توجہ نہ کی اور کہا تیرا بھائی بھی مارا گیا۔مگر اس عورت نے پھر کہا کہ میں نے تجھ سے یہ سوال کیا کب ہے؟ میں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حال پوچھ رہی ہوں۔اس نے پھر بھی اس سوال کی اہمیت کو نہ سمجھا اور کہا کہ تیرا خاوند بھی شہید ہو گیا ہے۔مگر اس عورت نے کہا میں نے تم سے خاوند کے متعلق کب پوچھا ہے؟ تم یہ بتاؤ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا آپ تو خدا کے فضل سے زندہ سلامت ہیں۔اس پر اس عورت نے کہا پھر کوئی پرواہ نہیں خواہ کوئی مارا جائے 1۔تو یہ ان لوگوں کے عشق کا حال تھا۔ایک فدائیت کی روح تھی جو ان کے اندر کام کر رہی تھی اور وہ یہ سننا بھی گوارا نہیں کر سکتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پاگئے ہیں۔جب آپ کی وفات ہوئی تو اس خبر کو سن کر حضرت عمرؓ ا تنے جوش میں آئے کہ آپ نے کہا جو یہ کہے گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہوگئے ہیں میں اُس کی گردن اڑا دوں گا۔آپ تو موسی کی طرح آسمان پر گئے ہیں اللہ تعالیٰ سے باتیں کر کے واپس آئیں گے اور منافقوں کی اچھی طرح خبر لیں گے۔حضرت ابو بکر