سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 133
سيرة النبي علي 133 جلد 4 رسول کریم ﷺ سے صحابہ کا عشق اور فدائیت کے فرمایا:۔حضرت مصلح موعود نے 18اپریل 1934ء کو فیصل آباد میں خطاب کرتے ہوئے - رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات پر ایک ایسا واقعہ ہوا جو صاف طور پر ثابت کر رہا ہے کہ صحابہ کرام آسمان سے کسی کے آنے کے منتظر نہ تھے اور اس واقعہ کو اگر کوئی مسلمان ان جذبات محبت کے ماتحت پڑھے گا جو ایک مسلمان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے ہونے چاہئیں تو اسے مجھ سے متفق ہونا پڑے گا۔احادیث میں آتا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو صحابہ میں یہ خیال پیدا ہوا کہ ابھی منافق موجود ہیں اس لئے ابھی آپ کی وفات بے موقع ہے۔اصل بات یہ ہے کہ آپ کی ذات سے ان لوگوں کو اتنی محبت تھی کہ آپ کی زندگی کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی چیز انہیں پیاری نہ لگتی تھی اور اپنے عشق کے نشہ میں وہ یہ خیال بھی نہ کر سکتے تھے کہ آپ ان سے جدا ہو جائیں گے۔ان کے عشق کا ایک واقعہ مجھے یاد آ گیا جس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کس طرح عورتیں تک آپ سے اخلاص کے نشہ میں مخمور تھیں۔جنگ احد میں غلط طور پر یہ مشہور ہو گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہید ہو گئے ہیں مگر بات صرف یہ تھی کہ آپ سخت زخمی ہونے کی وجہ سے بے ہوش ہو گئے تھے۔جو لوگ اُس وقت آپ کی حفاظت کر رہے تھے ان میں سے بعض شہید ہوئے اور ان کی لاشیں آپ کے اوپر گر گئیں۔اس سے یہ خبر پھیل گئی کہ آپ شہید ہو گئے ہیں لیکن جب صحابہ کرام نے باہر نکالا تو معلوم ہوا کہ آپ زندہ ہیں۔آپ کی