سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 120
سيرة النبي علي 120 جلد 4 گے اور بائیں بھی۔ہم موٹی کی قوم کی طرح یہ نہیں کہیں گے کہ جاتو اور تیرا رب جا کر لڑتے پھرو بلکہ دشمن آپ تک ہماری لاشوں پر سے گزر کر ہی پہنچ سکے گا۔ایک صحابی کہتے ہیں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کئی جنگوں میں شریک ہوا مگر مجھے ہمیشہ حسرت رہی کہ کاش! یہ سعادت مجھے نصیب ہوتی 9۔یعنی یہ فقرہ میرے منہ سے نکلتا۔یہ بات بغیر اس کے ممکن نہ تھی کہ ان لوگوں نے زندہ خدا کو دیکھ لیا تھا اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا يَدُ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ 10 اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم) انہوں نے بیعت کرتے وقت اپنے ہاتھوں پر تیرا ہاتھ نہیں دیکھا بلکہ خدا کا ہاتھ دیکھا ہے اور یہ ایسی بات ہے جو نبی کے بغیر نصیب نہیں ہو سکتی۔رسول کریم کے ذریعہ دوسری چیز پاکیزگی ہے۔رسول کریم صلی اللہ صلى الله علیہ وسلم کی بعثت سے قبل عرب کی حالت سب صفت قدوسیت کا اظہار پر واضح ہے اس لئے مجھے تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں لیکن اس کے بعد ان لوگوں کے اندر جو پاکیزگی آئی اس کی ایک مثال بیان کر دیتا ہوں۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ حبشہ میں ہجرت کر گئے تو مکہ والوں نے انہیں پکڑنے کے لئے ایک وفد بھیجا جس نے امراء کو تحائف وغیرہ دے کر اپنے ساتھ ملا لیا لیکن جب وہ نجاشی بادشاہ کے دربار میں پیش ہوئے اور کہا کہ ہمارے کچھ لوگ بھاگ کر یہاں آئے ہیں انہیں لے جانے کی اجازت دی جائے تو اس نے کہا میں ان لوگوں سے باتیں کرنے کے بعد جواب دوں گا۔جب مسلمانوں کو طلب کیا گیا تو ان کے امیر نے کہا اے بادشاہ! ہم دنیا میں بدترین مخلوق تھے ، شرابی ، زانی، چور، ڈاکو، فریبی اور عورتوں کی بے عزتی کرنے والے تھے مگر خدا نے ہم میں ایک نبی مبعوث کیا جس کے ذریعہ ہماری سب بد عادات چھوٹ گئیں اور ہماری حالتیں بالکل بدل گئیں ، نہ ماننے والوں کی دنیا علیحدہ ہوگئی اور ہماری علیحد 110 یہ وہ دعوی تھا جو انہوں نے مخالفوں اور جانی دشمنوں کے سامنے پیش کیا مگر