سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 121
سيرة النبي عمال 121 جلد 4 قریش کے وفد کو یہ جرأت نہ ہوئی کہ یہ کہہ سکے کہ یہ جھوٹ بولتے ہیں، یہ تو اب بھی ویسے ہی ہیں اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔اگر فی الواقعہ ان کے اندر پاکیز و تغییر نہیں ہو چکا تھا تو کیا وجہ ہے کہ صحابہ وہاں دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم پاکباز ہو گئے ہیں مگر مخالف یہ نہیں کہہ سکتے کہ غلط کہتے ہیں یہ اب بھی ویسے ہی گندے ہیں۔یہ تزکیہ تھا جو بغیر رؤیتِ الہی کے نہیں ہوسکتا۔صفات عزیزیت و حکیمیت کا اظہار تیسری اور چوتھی چیز يُعَلِّمُهُمُ الكتب وَالْحِكْمَةَ 12 ہے۔قرآن کریم کی تفصیلات بیان کرنے کے لئے یہ لیکچر تو کیا اس جیسے دس ہزار لیکچر بھی کافی نہیں ہو سکتے۔یہ وہ تعلیم ہے جس نے دنیا سے منوا لیا ہے کہ اس کا دنیا کی سب ضرورتوں پر حاوی ہونا ایسی بات ہے جس کا مقابلہ اور کوئی مذہب نہیں کر سکتا۔حکمت سکھانا بھی اسلام کی خصوصیت ہے۔نماز کیوں پڑھیں، روزہ کیوں رکھیں، حج کیوں کریں، زکوۃ کیوں دیں، غرضیکہ کوئی حکم ایسا نہیں جس کی حکمت نہ بیان کی گئی ہو۔ہر بات کے متعلق بتا دیا گیا ہے کہ اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے اور تمہاری ہی ترقی کے لئے ہے۔یہ چار کام ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آ کر دنیا میں کئے اور گویا یہ اسلام کا خلاصہ ہے۔یعنی اوّل خدا کی ذات مشاہدہ سے منوانا، دوسرے بنی نوع انسان کو پاک کرنا، تیسرے ایسی تعلیم دینا جو سب ضرورتوں پر حاوی ہو اور چوتھے انسان میں ایمانی بشاشت پیدا کرنا اور اسے بتانا کہ اس پر عمل کرنا تمہارے ہی فائدہ کا موجب ہے اور ایسی حکمتیں بیان کرنا کہ اس مذہب کو ماننے والا دوسروں کے سامنے اپنا سر اونچا کر سکے۔“ 1: الجمعة : 1 2، 3: الجمعة : 2 4: الجمعة : 3 ( مطبوعہ دسمبر 1934 ء قادیان)