سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 118

سيرة النبي علي 118 جلد 4 کرتے ہیں۔اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ڈرتے کیوں ہو، اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے 6۔اور یہ ایک ایسا جملہ ہے جو خدا ہونا چاہئے کہنے والے کے منہ سے نہیں نکل سکتا۔جنہوں نے خدا کو دیکھا نہیں ہوتا وہ ایسی حالت میں نہیں کہتے کہ خدا ہے وہ ہمیں بچائے گا بلکہ وہ ایسے موقع پر جان بچانے کے لئے کئی حیلے ا اختیار کرتے ہیں۔کبھی جھوٹ ، کبھی فریب اور کبھی خوشامد سے جان بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کے اندر یہ احساس نہیں ہو سکتا کہ نڈر ہو کر کہیں خدا ہمارے ساتھ ہے اور دشمن ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔چنانچہ کھوجی نے ان لوگوں سے کہا بھی کہ غار کے اندر دیکھو مگر کسی نے نہ دیکھا اور اوپر ہی کھڑے ہو کر واپس چلے گئے۔یہ ایک ایسی مثال ہے جسے مسلمان بچے بھی جانتے ہیں۔وگرنہ آپ کی زندگی کی ہر ساعت میں آپ نے اپنے عمل سے بتایا ہے کہ ایک زندہ خدا موجود ہے اور آپ اسے پیش کرتے تھے اور ایسی طرح کہ کسی کو انکار کی گنجائش نہ رہتی تھی۔مکہ میں بھی اور مدینہ میں بھی یہی حالت تھی اور ہر جگہ آپ نے خدا کا جلال اور ارفع و اعلیٰ شان پیش کی بلکہ قبل از وقت واقعات بتا دیئے حتی کہ بدر کی جنگ کے متعلق صحابہ کا بیان ہے کہ آپ نے ہمیں یہاں تک بتا دیا تھا کہ فلاں فلاں کا فرفلاں فلاں جگہ مارا جائے گا۔اور اس سے خدا کا ہونا ثابت ہوتا ہے۔یہی چیز ہے جس کے لئے نبی مبعوث ہوتے ہیں۔صلى الله رسول کریم ﷺ کے نمونہ کے اثرات عقلی دلائل کے لئے کسی نبی کی حاجت نہیں ہوا کرتی۔بوعلی سینا کے متعلق لکھا ہے کہ ان کا ایک شاگرد ایک دفعہ ان کی قابلیت سے اس قدر متاثر ہوا کہ کہنے لگا آپ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی بڑھ گئے ہیں۔بوعلی سینا یہ بات سن کر خاموش رہے۔سردی کا موسم آیا تو ایک تالاب کا پانی منجمد ہورہا تھا اور اس پر برف کی پیڑیاں جمی ہوئی تھیں آپ نے اس سے کہا اس میں چھلانگ لگاؤ۔اس نے جواب دیا آپ پاگل تو نہیں ہو گئے کہ طبیب ہو کر مجھے ایسا حکم دیتے ہیں جس کا نتیجہ