سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 107

سيرة النبي عمال 107 جلد 4 سے خیال کرے گا کہ کوئی جھگڑا نہ پیدا ہو اور رسول کریم ع روحانی طور پر اس طرح مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ ٹھہرے کہ جتنی غلطیاں انسان سے سرزد ہوسکتی ہیں ان سے روکنے کے طریق بتائے۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں ایک جج چوری کرنے والے کو سزا دے دیتا ہے مگر ان وجوہ کو نا پید کرنے کے لئے کوئی انتظام نہیں کرتا جو چوری کا باعث ہوتی ہیں۔باقی مذاہب نے یہ تعلیم تو دی ہے کہ شرارت کرنے والے کو سزا دی جائے مگر آپ نے شرارت کا دروازہ بند کیا ہے۔ایک طرف آپ نے استغنا پیدا کیا اور فرمایا حریص نہ ہو۔پھر اس خیال سے کہ غریب احتیاج کے باعث کسی چوری وغیرہ پر مجبور نہ ہو جائے ، زکوۃ اور صدقات کا انتظام فرمایا۔بعض مذاہب نے حکم دیا ہے کہ بدکاری نہ کرو مگر آپ نے حکم دیا کہ بد نظری نہ کرو 29 جو بدکاری کا اصل باعث ہے اور پھر ضرورت کے نہ پورا ہو سکنے کی صورت میں انسان کو بداخلاقی سے بچانے کے لئے چار تک شادیوں کی اجازت دی 30۔گویا حج والا نہیں بلکہ مالک والا معاملہ کیا۔کوئی مالک یہ نہیں کرتا کہ نوکر میرے جانوروں کو مارے گا تو اسے سزا دوں گا بلکہ وہ اسے پہلے سے روکتا ہے کہ جانوروں پر سختی نہ کرنا۔آپ چونکہ صفت مالک کے مظہر تھے اس لئے ہم سے زیادہ ہماری خیر خواہی کرتے تھے۔ایک صحابی دن کو روزہ رکھتے تھے اور رات کو جاگتے تھے۔آپ نے انہیں منع کیا اور فرمایا کہ تیری بیوی کا تجھ پر حق ہے، ہمسایہ کا حق ہے اور لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ 31 یعنی تیرے نفس کا بھی تجھ پر حق ہے۔گویا جس طرح مالک نوکر کو کہتا ہے کہ میرے گھوڑے کو تیز مت چلاؤ اس طرح آپ نے بھی کہا۔صفات الہی کا مکمل مظہر یہ مضمون اس قدر وسیع ہے کہ اس وقت اشارات کے سوا کچھ بیان کرنا ناممکن ہے اور یہ چاروں صفات آپ کے اندر ایسے طور پر پائی جاتی ہیں کہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ کامل ، اکمل بلکہ مکمل انسان تھے یعنی دوسروں کو بھی کامل بنانے والے۔پس ہر انسان جو خوبی اور حسن کو دیکھنے والا ہے اسے ان کی قدر کرنی چاہیئے۔