سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 108

سيرة النبي علي 108 جلد 4 آخر میں میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ جس غرض کے اللہ تعالیٰ سے دعا لئے ہم نے یہ دن قائم کیا ہے یعنی مختلف اقوام میں محبت والفت پیدا کرنا وہ اس سے پوری طرح حاصل ہو۔لوگوں کے اندرحسن کو دیکھنے کی عادت اور اہلیت پیدا ہو۔حسنِ ظاہری کو تو سب دیکھتے ہیں مگر اصلی حسن کو دیکھنے والے بہت کم ہیں۔اعلیٰ صداقت اور اعلیٰ اخلاق کو کوئی نہیں دیکھتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو اپنے مظہر یعنی انبیاء پیدا کئے تھے لوگوں میں انہیں دیکھنے کی عادت نہیں۔اللہ تعالیٰ اس حالت کو دور کر دے تا لوگ اس کے نور کو دیکھ سکیں۔اور ہندو، سکھ، عیسائی ، زرتشتی سب میں محبت پیدا ہو وہ انبیاء کے حسن کو دیکھ سکیں۔ہر قوم میں جو اچھے نمونے ہیں ان سے سبق حاصل کر سکیں۔بدھ ، کرشن اور زرتشت غرضیکہ سب انبیاء کی زندگی میں ایسے واقعات ہیں جن سے مسلمان سبق حاصل کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہر جگہ حسن پیدا کیا ہے اور میں دعا کرتا ہوں کہ وہ لوگوں کو توفیق دے کہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔رسول کریم ﷺ تو سب کے لئے مطاع اور سب کی خوبیوں کے جامع ہیں۔لیکن ان کے نمونے ہر قوم میں ہیں۔پس ہر حسن کو دیکھو اور ہر نیکی پر نگاہ ڈالو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو صلح کا شہزادہ کہا گیا ہے اور میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ لوگوں کو توفیق دے کہ وہ اس بات کو سمجھ سکیں کہ صلح کا یہی رستہ ہے۔اور ہمیں بھی توفیق دے کہ دنیا میں صلح و آشتی پیدا کر سکیں اور ہر قسم کی ٹھوکروں سے محفوظ رکھے۔(آمین) (مطبوعہ دسمبر 1933 ء قادیان) 1:بخارى كتاب النكاح باب الاكفاء في الدين صفحه 910 حدیث نمبر 5090 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية 2: النساء:2 3:بخارى كتاب الادب باب فضل صلة الرحم صفحه 1047 حدیث نمبر 5983 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية 4: الاحزاب: 71