سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 105
سيرة النبي عمال 105 جلد 4 ہمیشہ ایک دوسرے کے احسانات کا بدلہ دیا کرتے ہیں۔مثلاً ایک شخص دوسرے کو کہتا ہے جناب والا ، تو وہ کوشش کرے گا کہ جواب میں اس کا بدلہ ادا کرے اس لئے کہے گا آئے تشریف لائیے ، سر آنکھوں پر آئیے۔ایک کہتا ہے آپ بہت اچھے آدمی ہیں۔دوسرا کہتا ہے میں کیا ہوں آپ کا مقابلہ میں کسی طرح بھی نہیں کر سکتا۔مگر یہ تہذیب اسی حد تک ہے کہ اپنا نقصان نہ ہو جب ذاتی نقصان کا موقع ہو تو سب کچھ بھول جاتا ہے۔دہلی والے میرزا صاحب کہلاتے ہیں اور لکھنوی میر صاحب اور دونوں تہذیب اور وضع داری میں مشہور ہیں۔کہتے ہیں کہ کسی موقع پر ایک لکھنوی میر صاحب اور لا دہلوی مرزا صاحب سٹیشن پر اکٹھے ہو گئے اب دونوں نے خیال کیا کہ اپنی تہذیب کا پوری طرح مظاہرہ کرنا چاہئے ایسا نہ ہو کہ دوسرا بد تہذیب سمجھے اور اس لئے گاڑی کے سامنے کھڑے ہو کر میر صاحب کہہ رہے ہیں کہ حضرت میرزا صاحب! سوار ہو جیئے اور ساتھ جھکتے بھی جاتے ہیں۔اور میر صاحب اس سے بھی زیادہ جھک کر کہہ رہے ہیں کہ آپ تشریف رکھیئے میں ناچیز پیش قدمی کرنے کا حقدار نہیں۔لوگ گاڑی میں سامان لادتے اور بیٹھتے جاتے ہیں مگر یہ دونوں دروازے کے سامنے کھڑے اپنی تہذیب کے جو ہر دکھا رہے ہیں۔لیکن جونہی گاڑی نے سیٹی بجائی ایک نے دوسرے کو وہ دھکا دیا کہ کمبخت آگے سے نہیں ہٹتا گھنے بھی دے گا یا نہیں۔تو جہاں قربانی کا موقع آتا ہے سب تہذیب دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔صلى مگر رسول کریم ﷺ نے نقصان اٹھا کر ایک بدلہ رحیمیت نقصان اٹھا کر بدلہ کا دیا ہے۔ہر نبی نے آپ کے متعلق پیشگوئی کی ہے اور کہا ہے کہ ایک ایسا شخص آئے گا اور لوگوں نے ان سے فائدہ اٹھایا ہو گا۔اوّل تو اسلام کی تعلیم کو دیکھ کر مسلمان ہونے والوں کے مقابلہ میں ان لوگوں کی تعداد جوایسی پیشگوئیوں کی وجہ سے ایمان لائے بہت ہی کم ہے۔رسول کریم علیہ نے اپنی تعلیم اور حسنِ اخلاق سے جن لوگوں کو کھینچا ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔مگر پھر بھی آپ نے