سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 101

سيرة النبي عمر 101 جلد 4 لئے پہلے سے وصیت کر رکھے 14 تا اُس وقت یہ باتیں اسے پریشان نہ کریں۔اور اس پر آپ اس قدر زور دیتے تھے کہ ایک صحابی کہتے ہیں کہ میں ہر روز لکھی ہوئی وصیت سرہانے رکھ کر سوتا تھا 15 اور یہ اس لئے حکم دیا ہے کہ تا مرنے والے کی آخری گھڑیاں خراب نہ ہوں اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو سکے۔یہ وقت اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرنے کا ہوتا ہے تا یہ سلسلہ اخروی زندگی میں بھی قائم رہے۔اگر کوئی مرتے وقت ہائے میرے بچے ، ہائے میری بیوی کہتا رہے گا تو اٹھتے وقت بھی اس کا دھیان اس طرف ہو گا لیکن اگر مرتے وقت ہائے اللہ کہے گا تو اٹھتے وقت بھی اس کی توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہی ہوگی۔اس کی مثال ایسی ہے کہ اگر بچہ روٹی کے لئے روتا ہوا سو جائے تو صبح اٹھتے وقت وہ روٹی کو ہی یاد کر رہا ہو گا۔غرضیکہ رسول کریم ﷺ نے انسان کی ان آخری گھڑیوں کو بھی فراموش نہیں کیا اور حکم دیا کہ اُس وقت اللہ تعالیٰ کی تحمید و تقدیس کی جائے۔موت کے بعد ربوبیت پھر انسان مر جاتا ہے اُس وقت کا بھی آپ نے خیال رکھا اور بتایا کہ کس طرح مردہ کی تجہیز و تکفین کی جائے۔آپ ہر قوم کے مردوں کا احترام کرتے تھے۔ایک دفعہ ایک میت جا رہی تھی کہ آپ اس کے احترام کے طور پر اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔کسی نے عرض کیا يَا رَسُولَ الله ! یہ تو یہودی تھا۔آپ نے فرمایا یہودی بھی تو خدا کا بندہ ہی ہے 16۔پھر فرمایا مردوں کا ذکر اچھی طرح کیا کرو 17۔اور کہا جا سکتا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے ہر مرنے والے کی بھی خبر گیری کی اور اس طرح اس کی بھی ربوبیت کر دی اور انسان کی پیدائش سے لے کر اس کی موت تک سب ضروری احکام دے دیئے اور پھر اگر تمام افراد کو علیحدہ علیحدہ لیا جائے تو اس میں بھی آپ کی ربوبیت نظر آئے گی۔روحانی ربوبیت سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ سب کی اخروی زندگی کے لئے سہارا ہیں۔آپ نے ہر قوم کے افراد کو دعوت الہی