سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 100

سيرة النبي عمال 100 جلد 4 کس حد تک آزادی ہے ، ماں باپ کے ساتھ کیا سلوک کریں، ماں باپ جوان اولاد کے ساتھ کیسا سلوک کریں۔رسول کریم ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور کہا کہ میرے الله باپ نے میرے بھائی کو گھوڑا دیا ہے مگر مجھے نہیں دیا۔آپ نے اسے بلایا اور فرمایا کہ اگر وسعت ہے تو سب کو دو وگرنہ ایک سے بھی واپس لے لو 10۔جوانی میں جب من وتو کے احساسات ہوتے ہیں اُس وقت بھی ان کے متعلق احکام بیان کئے۔لڑکی کے لئے کیا حد بندیاں اور لڑکے کے لئے کیا ہیں۔انہیں اپنی شادی بیاہ کے معاملہ میں کہاں تک آزادی ہے اور کہاں تک پابندی ہے۔بھائی بہن کے کیا تعلقات ہیں۔پھر دنیا میں لوگ عام طور پر جو کام کرتے ہیں ان کے متعلق بھی تفصیلی احکام دیے۔آپ نے بتایا دنیوی امور میں ربوبیت کہ تجارت میں دھوکا نہیں کرنا چاہئے 11 ، لین دین عارضی اور مستقل کے علیحدہ علیحدہ احکام بیان فرمائے۔رہن اور بیع کے واسطے مفصل ہدایات دیں۔غرض ان تمام ضرورتوں کے لئے آپ نے احکام دیئے۔انسان جب بوڑھا ہوتا ہے تو بچوں کو اس کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہئے اور بتایا کہ بوڑھے ماں باپ کو اُف تک نہ کہو 12۔مرنے والے کی ربوبیت پھر موت کا وقت ہوتا ہے اس کے لئے بھی احکام دیئے اور بتایا کہ وہ انسان کا آخری وقت ہوتا ہے۔اُس وقت اپنے تھوڑے سے فائدہ کے لئے مرنے والے کی عاقبت خراب نہ کرو۔اسے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کرنے اور اس کی طرف متوجہ ہونے کا موقع دو۔تمہارے بچوں کا کیا حال ہوگا ، بیوی کیا کرے گی ایسے سوالات سے ان قیمتی لمحات کو ضائع نہ کرو بلکہ اس کے سامنے قرآن کریم کی آیات اور سورۃ لین پڑھو 13۔اس کے بعد اپنی تکالیف کا خود انتظام کر لینا اور ان کا ذکر کر کے اس کے آخری وقت کو خراب نہ کرو۔پھر فرمایا کہ اگر کسی کی جائیداد ہو تو چاہئے کہ وہ اس کے