سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 95

سيرة النبي علي 55 95 جلد 4 ہم ریشم پر ہاتھ رکھتے ہیں پھر ربڑ پر رکھتے ہیں اور اگر چہ دونوں نرم ہیں مگر ہماری چھونے کی طاقت دونوں میں ایک امتیاز قائم کرتی ہے اور اس طرح نرمیوں میں بھی ہزاروں امتیاز ہیں۔تو اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت نے جو طاقتیں انسان کو دی ہیں ان کے استعمال کے ذرائع بھی ساتھ ہی پیدا کر دیئے ہیں۔مگر دنیوی حکومتیں ایسا نہیں کرتیں۔ان کی مثال تو ایسی ہے کہ کہتے ہیں کوئی شخص شکار کے لئے ایک دلچسپ مثال گیا اور ایک خرگوش مار کر لایا۔جب گھر کے قریب پہنچا تو خیال کیا کہ میرا کنبہ تو بہت ہے چھوٹے چھوٹے بچے ، بہن ، بھائی ہیں ایک خرگوش اگر میں گھر لے گیا تو وہ آپس میں لڑیں گے اس لئے بہتر ہے کہ باہر ہی کسی کو دے جاؤں۔پاس سے کوئی سادھو گزر رہا تھا اس نے سوچا کہ اسے ہی دے جاؤں اور اس خیال سے اسے پوچھا کہ سادھو جی! خرگوش کھا لیتے ہو؟ مگر اس کے جواب دینے سے پہلے اسے خیال آیا کہ بچے بوٹیوں پر تو پکنے کے بعد لڑیں گے لیکن اگر میں باہر ہی دے گیا تو گھر پہنچتے ہی سب پوچھیں گے ہمارے لئے کیا لائے اور پھر انہیں کیا جواب دوں گا اس لئے بہتر ہے کہ گھر لے جاؤں۔سادھو نے اس کے سوال کے جواب میں کہا کہ ہاں مل جائے تو کھا ہی لیتے ہیں۔اس پر وہ کہنے لگا کہ اچھا پھر مار مار کر کھایا کرو۔تو دنیا کی حکومتوں کی مثال ایسی ہی ہے وہ ساری امیدیں پیدا کرنے کے بعد یہ کہہ دیتی ہیں کہ مار مار کر کھایا کرو اسی لئے تعلیم یافتہ نوجوان جن کے متعلق کسی نے کہا ہے کہ ے ایم۔اے بنا کے کیوں میری مٹی خراب کی کہتے ہیں کہ اچھا پھر پہلے تمہیں ماریں گے۔اور وہی تعلیم یافتہ لوگ جنہیں حکومت نے پڑھا کر ان کے لئے کام کرنے کے سامان مہیا نہیں کئے تھے وہ پھر اسی کے ارکان کو مارنے لگ جاتے ہیں۔صفت رب العلمین اور رسول کریم میں تو میں بتا رہا تھا کہ پہلی صفت صلى الله جو اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ کی