سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 93
سيرة النبي علي 93 جلد 4 خدا تعالیٰ میں جذب ہو جاتے ہیں۔آریہ کہتے ہیں کہ وہ لمبے عرصہ کے لئے خدا تعالیٰ کے قرب میں چلے جاتے ہیں۔بدھوں کا بھی ایسا ہی عقیدہ ہے۔یہودیوں میں سے بعض تو قیامت کے قائل ہی نہیں، جو قائل ہیں وہ یہی سمجھتے ہیں۔زرتشتی ، مسلمان غرضیکہ سب کا یہی خیال ہے اور سب نے اس وصال کا زمانہ بعد الموت رکھا ہے۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ انسان سفر میں ہو تو بھی اپنے لئے کچھ نہ کچھ سامان ضرور کرتا ہے اس لئے دنیا میں بھی جو بطور سفر ہے وصالِ الہی کی کوئی تجاویز ہونی چاہئیں۔اور اس پر سب مذاہب کا اجتماع ہے کہ جب تک انسان حقیقی تقرب الہی حاصل کرے اُس وقت تک اس کی صفات کو اپنے اندر جذب کرے تو یہ بھی ایک قسم کا قرب ہے۔مثلاً روزہ کیا ہے؟ یہی کہ انسان اللہ تعالیٰ کی طرح ایک وقت کے لئے کھانے سے ہاتھ اٹھا لے۔پھر نماز ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح خدا تعالیٰ بغیر کسی شریک، ساتھی اور رشتہ دار کے ہے اسی طرح انسان بھی ایک وقت کے لئے اپنے ساتھیوں اور رشتہ داروں سے الگ ہو جائے اور اس طرح سب مذاہب میں کچھ نہ کچھ عبادات ہیں۔اور سب مذا ہب اس امر پر متفق ہیں کہ اصل مقصد انسانی زندگی کا قرب الہی ہے اور دنیا میں اس کی مثال اللہ تعالیٰ کی صفات کا دل میں پیدا کرنا ہے اور کامل انسان وہی ہو گا جو زیادہ سے زیادہ صفات الہی اپنے وجود میں ظاہر کرے گا۔۔صفات الہی کا مظہر اتم آج کے مضمون میں میں رسول کریم علیہ کے کاموں میں سے اسی کام کو لیتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ آپ نے صفات الہی کو جس قدر اپنے اندر جذب کیا ہے اس کی مثال اور کہیں نہیں مل سکتی اور اسی غرض سے میں نے شروع میں سورۃ فاتحہ پڑھی ہے۔اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ کی چار صفات بیان کی گئی ہیں۔پہلی صفت ربوبیت رَبُّ الْعَلَمِينَ ہے۔جس طرف دیکھو اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کام کر رہ رہی ہے۔زمین، آسمان ، سورج، چاند، ستارے، مشرقی ، مغربی ، گورے،