سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 92
سيرة النبي عمال 92 جلد 4 لئے مزید احتیاط کرے۔اگر کوئی قوم پسند نہیں کرتی تو اس کی گلی میں سے نہ گزرا جائے۔لیکن پھر بھی میں یہ ضرور کہوں گا کہ یہ طریق صلح کا نہیں اس سے ہر جگہ اور ہر قوم میں فساد ہوتے رہتے ہیں۔ایسی ہی باتوں سے ہندومسلمانوں میں اور پھر مدراس کے علاقہ میں عیسائیوں اور ہندوؤں کے مابین فساد ہوتے رہتے ہیں۔یہ خیال کہ ہماری مسجد یا محلہ میں سے کوئی گزر جائے تو یہ ہتک ہے قطعاً غلط ہے۔اگر وہ ہمارا بھائی ہے تو اس میں ہتک کی کیا بات ہے لیکن جب تک دل نہیں بدلتے اور کسی کو دکھ ہوتا ہے اُس وقت تک اگر ہم چھوڑ ہی دیں تو کیا حرج ہے۔مضمون کی وسعت اور وقت کی تنگی اس کے بعد میں اس غرض کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں جس کے لئے یہ جلسہ منعقد کیا گیا ہے۔اس میں رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تفصیلی واقعات تو کسی علی صورت میں بیان نہیں ہو سکتے کیونکہ وقت بہت تھوڑا ہوتا ہے۔سردیوں کے دن ہیں۔اوّل تو عصر و مغرب کی نمازوں کے درمیان وقفہ ہی گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ کا ہوتا ہے۔اس میں سے کچھ وقت یہاں پہنچنے میں لگ جاتا ہے، کچھ تلاوت ونظم میں، پھر کھڑے ہونے اور تمہید میں کچھ صرف ہو جاتا ہے۔اور صرف پندرہ بیس منٹ باقی بچتے ہیں اور کون ہے جو اس قدرقلیل عرصہ میں اس بحر نا پیدا کنار کو تیر کر گزر سکے۔صرف اتنا ہو سکتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے بعض اعمال کو بیان کیا جائے تا ماننے والوں کے علم اور محبت میں زیادتی ہو اور دوسروں میں منافرت کم ہو۔مذاہب کا اصل مقصد آج میں اس امر کے متعلق کچھ بیان کروں گا کہ دنیا میں جتنے مذاہب ہیں وہ وصلِ الہی کو ہی اصل مقصد قرار دیتے ہیں۔ہندو، مسلمان ، سکھ، عیسائی ، زرتشتی، یہودی، مجوسی ہر ایک اپنے مذہب کا اصل مقصد وصالِ الہی ہی بتاتے ہیں لیکن وہ سب کے سب اس وصال کو مرنے کے بعد قرار دیتے ہیں۔مثلاً سناتنیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ مرنے کے بعد کامل انسان