سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 91
سيرة النبي عمال 91 جلد 4 ہندوستان میں فساد کا اصل باعث لیکن یہ میرا اپنا خیال ہے اور جب تک سب کے اندر یہ وسعت قلبی پیدا نہیں ہوتی اُس وقت تک اگر کوئی اعتراض کرتا ہے تو چاہئے کہ اس محلہ کو چھوڑ دیا جائے لیکن میری اپنی رائے یہی ہے کہ صلح و آشتی کے لئے ہمیں یہ تنگ دلی دور کر دینی چاہئے اور جن چیزوں میں ہمارے مذاہب نے دائرے قائم نہیں کئے مثلاً ہند و محلہ یا مسلم محلہ کسی مذہب نے نہیں بتایا تو ہم خواہ مخواہ نئی حد بندیاں کیوں کریں۔ہندوستان میں تمام لڑائیاں ایسی ہی تنگ دلانہ ذہنیت میں پیدا ہوتی ہیں جس کا میں ہمیشہ سے مخالف رہا ہوں۔احمدیوں کی وسعت قلبی ہماری چھوٹی مسجد کے نیچے سے ہندو، مسلم، سکھ براتیں باجہ بجاتے ہوئے گزر جاتی ہیں اور نماز کے وقت بھی جبکہ میں نماز پڑھا رہا ہوتا ہوں گزرتی ہیں لیکن میں نے انہیں بھی نہیں روکا۔بلکہ بعض لوگوں نے روکنا چاہا تو میں نے انہیں بھی منع کیا۔اگر کوئی شخص باجے سے ہماری توجہ کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے تو دین کی طرف ہماری توجہ ہی کیا ہوئی۔چاہئے کہ ہم دین میں ایسے مگن ہوں کہ کوئی چیز ہمیں اپنی طرف متوجہ نہ کر سکے۔مجھے تو کبھی اس کا احساس نہیں ہوا۔بلکہ اگر کسی کو ہوا تو میں نے اسے بھی منع کیا اور یہی کہا کہ یہ گلی گزرنے کی ہے اور اب تک اس میں سے ہندو، سکھ، مسلمان سب کی براتیں گزرتی ہیں۔یہاں کی بھی اور باہر کی بھی۔اور میرا خیال ہے کہ یہی ذریعہ صلح کا ہے۔ناپسندیدہ باتیں خواہ ہند ومحلہ میں ہوں یا اپنے محلہ میں ہر حال میں ناپسندیدہ ہیں۔فساد کے خیال سے اگر دوسرے کے محلہ میں جا کر کوئی ایسی بری حرکت کی جائے تو یہ زیادہ بری بات ہے۔لیکن جو بات ہے ہی نا پسندیدہ اسے اپنے محلہ میں بھی نہیں کرنا چاہئے۔جماعت کو نصیحت اس لئے میں بغیر تحقیق کے ہی یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر کسی نے کوئی حرکت کی ہے تو تو بہ کرے اور اگر نہیں کی تو آئندہ کے