سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 86
سيرة النبي عمال 86 جلد 3 ہو 55۔اسی طرح آپ کے بیٹے ابراہیم کی موت پر گرہن لگا تو لوگوں نے کہا کہ ابراہیم کی موت پر گرہن لگا ہے۔تو آپ نے اس سے لوگوں کو منع کیا اور فرمایا کہ گرہن خدا تعالیٰ کے ایک قانون سے تعلق رکھتا ہے اسے کسی کی موت اور حیات سے کیا تعلق ہے 56۔سرمایہ اور مزدوری میں اتحاد گیارھواں احسان آپ کا دنیا پر یہ ہے کہ آپ نے سرمایہ دار اور مزدور کے تعلقات کو ایسے اصول پر قائم کیا کہ دنیا کی ترقی کے لئے رستہ کھل جاتا ہے اور سرمایہ دار اور مزدور کے جھگڑے بالکل دور ہو جاتے ہیں۔آپ نے جو تعلیم اللہ تعالیٰ کے حکم سے دی ہے اس میں فیصلہ فرمایا ہے کہ ہر مالدار غریب کے ذریعہ کماتا ہے اس لئے اسے اپنے مال کا 1/40 حصہ غریبوں کے لئے الگ کر دینا چاہئے جو ان پر خرچ کیا جائے۔لیکن اس کے خرچ کا اختیار گورنمنٹ کو ہوگا نہ کہ اس شخص کو یا اس کے ہاں کام کر نے والے مزدوروں کو۔اس لئے کہ در حقیقت سرمایہ دار صرف اپنے ہی مزدوروں کے ذریعہ نہیں کماتا بلکہ اس کی کمائی پر تمام ملک کے مزدورں کی محنت کا اثر پڑتا ہے۔پس چالیسواں حصہ کل سرمایہ کا سرمایہ دار سے وصول کر کے گورنمنٹ غرباء پر اس طرح خرچ کرے کہ کچھ تو اپاہجوں پر کرے اور کچھ ان پر جو اپنی آمد میں گزارہ نہیں کر سکتے اور کچھ غرباء میں سے جو ترقی کرنے کی قابلیت رکھتے ہوں انہیں مدد دے کر تا کہ وہ اپنی حالت کو بدل سکیں۔اس طرح رسول کریم ﷺ نے غرباء کی ترقی کے لئے راستہ کھول دیا ہے اور امرا کو ہمیشہ کے لئے امیر بنے رہنے سے روک دیا ہے۔شراب کی ممانعت بارھواں احسان رسول کریم ﷺ نے دنیا پر یہ کیا ہے کہ آپ نے شراب کو بالکل روک دیا ہے۔شراب کی برائیوں کے متعلق مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اب سب دنیا اس کے نقائص کو تسلیم کر رہی ہے اور مختلف ملکوں میں اس کے کم کرنے یا بند کرنے کا انتظام ہو رہا ہے۔چنانچہ