سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 85
سيرة النبي علي 85 جلد 3 لے سکتا۔بچوں کی تربیت ، نکاح میں رضامندی اور اس قسم کے بہت سے حقوق آپ نے عورت کو عطا کئے۔تو ہم کا انسداد دسواں احسان رسول کریم ﷺ کا صلى الله دسواں احسان رسول کریم ﷺ کا یہ ہے کہ دنیا میں جو تو ہم پائے جاتے تھے آپ نے ان کا انسداد کیا۔آپ کی آمد سے جادو اور ٹونے کا بہت رواج تھا اور جانوروں سے اور ان کی بولیوں سے لوگ تفاؤل لیتے تھے اور قسم قسم کے وہموں میں مبتلا تھے۔مگر جب کہ تعلیم یافتہ ملکوں کے لوگ وہم میں مبتلا تھے آپ نے ایک جاہل ملک میں پیدا ہو کر سب وہموں کو دور کر دیا اور اعلان کر دیا کہ یہ سب امور فضول اور لغو ہیں۔خدا تعالیٰ نے ہراک امر کے لئے علم پیدا کیا ہے اس علم سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔اس کے ذریعہ سے بیماریاں بھی دور ہوں گی اور ترقیات حاصل ہوں گی۔لوگ کہتے ستاروں کی وجہ سے بارشیں ہوتی ہیں۔آپ نے فرمایا بے شک ان کا بھی اثر ہوتا ہے مگر یہ ستارے اپنی ذات میں کوئی مستقل حیثیت رکھتے ہوں یہ درست نہیں ہے۔وہ خدا تعالیٰ کے پیدا کردہ ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہیں۔ان کی گردشوں پر اپنے کام کو منحصر رکھنا فضول اور لغویات ہے۔اسی طرح بلی ، کوا اور الو وغیرہ جانوروں سے شگون لینے کو آپ نے ناپسند فرمایا۔اسی طرح قانون قدرت کی صحت کو تسلیم کر کے فرمایا لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا 54 ایک قانون خدا تعالیٰ نے جاری کیا ہے اس کے ماتحت چل کر ترقی کر لو۔اس کے خلاف کرو گے تو ترقی نہ ہوگی۔ایک دفعہ آپ کہیں جا رہے تھے کہ لوگ کھجور کے پیوند لگا رہے تھے۔آپ نے فرمایا یہ کیا کر رہے ہو، اس کی کیا ضرورت ہے؟ پیوند لگانے والوں نے سمجھا آپ نے منع فرمایا ہے اور انہوں نے پیوند لگانے چھوڑ دیئے۔اس سال کھجوروں کو پھل نہ لگے۔انہوں نے آ کر رسول کریم ﷺ سے کہا آپ نے پیوند لگانے سے منع کیا تھا مگر پھل نہیں لگے۔آپ نے فرمایا میں نے تو پوچھا تھا نہ یہ کہ منع کیا تھا۔تم نے کیوں پیوند لگانے چھوڑ دیئے۔تم لوگ ان امور کو مجھ سے زیادہ جانتے صلى