سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 82

سيرة النبي عمال 82 جلد 3 میں خواہ وہ کتنی ہی بری کیوں نہ ہو خو بیاں بھی ہوتی ہیں اور جب کوئی چیز کسی فائدہ کی نہ رہے تو وہ بالکل مٹا دی جاتی ہے پس یہ کس طرح کہتے ہیں کہ دوسرے میں کوئی خوبی ہے ہی نہیں۔وہ مسلمان جو یہ کہتا ہے کہ ہندو مذہب میں عیب ہی عیب ہیں یا ہندو مسلمانوں کے متعلق کہتے ہیں کہ ان کے مذہب میں عیب ہی عیب ہیں یا عیسائی ہندوؤں کے متعلق کہتے ہیں کہ ان کے مذہب میں عیب ہی عیب ہیں کوئی خوبی نہیں ہے انہیں غور کرنا چاہئے کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ عیسائیت دنیا میں قائم ہومگر اس میں کوئی خوبی نہ ہو یا یہودیت قائم ہو مگر اس میں کوئی خوبی نہ ہو۔ہندو دھرم قائم ہو مگر اس میں کوئی خوبی نہ ہو یا اسلام قائم ہو مگر اس میں کوئی خوبی نہ ہو۔کوئی مذہب اُس وقت تک قائم نہیں رہ سکتا جب تک اس میں کوئی خوبی نہ ہو۔مگر یہ تعلیم صرف اسلام نے ہی دی ہے کہ دوسروں کی خوبیوں کا اعتراف کرو۔دراصل یہ بزدلی ہوتی ہے کہ دوسروں کی خوبی کا اعتراف نہ کیا جائے۔نیک نیتی سے ماننے والے رسول کریم ﷺ نے امن کے قیام کا ایک یہ بھی ذریعہ اختیار کیا ہے کہ آپ نے دنیا کے سامنے اس صداقت کو بھی پیش کیا ہے کہ نہ صرف یہ کہ سب اقوام میں نبی آئے ہیں اور نہ صرف یہ کہ ہر مذہب میں کچھ خوبیاں ہیں بلکہ یہ امر بھی بالکل حق ہے کہ ہر مذہب کے پیروؤں میں سے اکثر ایسے ہوتے ہیں جو اس مذہب کو سچا سمجھ کر مان رہے ہوتے ہیں نہ کہ ضد اور شرارت سے۔پس یہ نیکی کی تڑپ جو ماننے والوں کے دلوں میں پائی جاتی ہے نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔اور گو وہ غلطی پر ہوں مگر پھر بھی ان کی یہ سعی قابل قدر ہے۔چنانچہ اس کی مثال رسول کریم ﷺ کے ایک عمل سے ملتی ہے۔سب جانتے ہیں کہ اسلام شرک کا سخت مخالف ہے۔مگر ایک دفعہ کچھ عیسائی رسول کریم ﷺ کے پاس آئے اور مسجد میں بیٹھ کر بحث کرتے رہے حتیٰ کہ ان کی