سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 81

سيرة النبي عمال 81 جلد 3 کو تو برا بھلا نہیں کہتا لیکن اس کے اصولوں کو برا کہتا ہے۔رسول کریم میے کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے اس فعل سے بھی روکا ہے۔آپ کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ نے اعلان کیا ہے کہ وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللهَ عَدُوًّا بِغَيْرِ عِلْمٍ كَذَلِكَ زَيَّنَا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُمُ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ 46 فرمایا وہ چیزیں جنہیں دوسرے مذاہب والے عزت و توقیر کی نظر سے دیکھتے ہیں جیسے بت وغیرہ ان کو بھی گالیاں مت دو۔گو تمہارے نزدیک وہ چیزیں درست نہ ہوں مگر پھر بھی تمہارا حق نہیں ہے کہ انہیں سخت الفاظ سے یاد کرو کیونکہ اس طرح ان لوگوں کے دل دیکھیں گے اور پھر لڑائی اور فساد پیدا ہوگا اور وہ بھی بغیر سوچے تمہارے اصول کو برا بھلا کہیں گے اور خدا تعالیٰ کو ضد میں آ کر گالیاں دیں گے۔یہ کتنی اعلیٰ تعلیم ہے جو رسول کریم ﷺ نے دی ہے۔دوسرے مذاہب کے جو بزرگ سچے تھے ان کے متعلق تو فرمایا کہ انہیں مان لو۔اور جو چیزیں سچی نہ تھیں ان کے متعلق کہہ دیا کہ انہیں برا بھلا نہ کہو۔( ج ) تیسری بات لڑائی فساد پیدا کرنے والی یہ ہوتی ہے ہر مذہب میں خوبی کہ ہر مذہب والا دوسرے مذہب کے متعلق کہتا ہے کہ وہ قطعاً جھوٹا ہے اس میں کوئی خوبی نہیں ہے۔رسول کریم ﷺ کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے فرمایا وَقَالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصْرُى عَلَى شَيْءٍ وَقَالَتِ النَّصْرُى لَيْسَتِ الْيَهُودُ عَلَى شَيْءٍ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَبَ كَذَلِكَ قَالَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ فَاللهُ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيِّمَةِ فِيْمَا كَانُوْا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ 47۔فرمایا کیسا اندھیر بیچ رہا ہے۔یہودی کہتے ہیں عیسائیوں میں کوئی خوبی نہیں اور عیسائی کہتے ہیں یہودیوں میں کوئی خوبی نہیں۔حالانکہ یہ دونوں کتاب الہی پڑھتے ہیں یعنی جب کتاب الہی پڑھتے ہیں تو انہیں معلوم ہونا چاہئے تھا کہ ہر اک چیز