سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 76

سيرة النبي عمال 76 جلد 3 کرے تو ضرور اسے سیدھا رستہ دکھایا جائے گا۔اور جب اس کی دعا اپنی حد کو پہنچ جائے گی تو خدا تعالیٰ ایسے سامان پیدا کر دے گا جن کی مدد سے وہ کشاں کشاں اس راستہ پر پڑ جائیں گے جس پر چل کر خدا تعالیٰ کا دیدار حاصل ہوتا ہے۔چھٹا احسان رسول کریم ﷺ کا یہ ہے کہ آپ نے قومی امتیازات کو مٹا مساوات کر انسانی مساوات کو قائم کیا ہے۔آپ سے پہلے ہر قوم اپنے آپ کو اعلیٰ قرار دیتی تھی۔عرب تحقیر کے طور پر کہتے کہ عجمی جاہل ہیں۔ان کی ہمارے مقابلہ میں کیا حقیقت ہے۔مجھی ، عربوں کے متعلق کہتے تھے کہ عرب وحشی ہیں۔رومی کہتے تھے ہم سب سے اعلیٰ ہیں۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا لَيْسَ لِلْعَرَبِيِّ فَضْلٌ عَلَى عَجَمِيّ إِلَّا بِالتَّقوى 142اے عربو! یاد رکھو تم کو دوسروں پر کوئی فضیلت نہیں دی گئی۔تم بھی ویسے ہی ہو جیسے اور ہیں۔سوائے اس صورت کے کہ تم خدا کے خوف میں دوسروں سے بڑھ جاؤ اور یہ فضیلت نسل کی وجہ سے نہ ہوگی بلکہ تقویٰ کی وجہ سے۔اگر رسول کریم ﷺ کسی غیر قوم کے لوگوں کو یہ تعلیم دیتے کہ تمہیں دوسروں پر کوئی فضیلت نہیں ہے تو کہا جا سکتا تھا کہ اپنی قوم کو بڑھانے کے لئے ایسا کہہ رہے ہیں۔مثلاً اگر کوئی شخص چوہڑوں اور چماروں میں سے کھڑا ہو کر کہے کہ اے پنڈ تو اور برہمنو ! تم کو کسی اور قوم پر فضیلت حاصل نہیں ہے۔تو کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ تعلیم مساوات قائم کرنے کیلئے نہیں بلکہ اپنی عزت قائم کرنے کے لئے ہے۔لیکن اگر کوئی سید کھڑا ہو کر سیدوں کو کہے کہ تمہیں دوسروں پر انسان ہونے کے لحاظ سے کوئی فضیلت نہیں ہے تو کہا جائے گا کہ وہ اپنی قوم کو ایک سچی تعلیم دے کر ان پر احسان کر رہا ہے۔رسول کریم ﷺ کے حکم کو دیکھو آپ نے ایسے ہی الفاظ میں نصیحت کی ہے جو آپ کی قوم کے درجہ کو گراتے ہیں نہ یہ کہ اوروں کے درجہ کو گرا کے اپنی قوم کا درجہ بڑھاتے ہیں۔پس آپ کی تعلیم حقیقی مساوات کی تعلیم تھی۔آپ یہ نہیں فرماتے کہ اے مجھیو! تم رومیوں یا عربوں سے بڑے نہیں ہو بلکہ اپنی قوم کو کہتے ہیں کہ تم دوسروں پر فضیلت کا