سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 75

سيرة النبي علي 75 جلد 3 اخلاقی ترقی کا مگر پانچواں احسان آپ کی وہ تعلیم ہے جو آپ نے اخلاقی ترقی کے متعلق دی ہے اور جس سے بدی کا قلع قمع ہو جاتا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ انسان خواہ کیسی گندی حالت میں پہنچ جائے یہ نہ سمجھے کہ وہ نیک نہیں بن صلى الله سکتا۔اس تعلیم کے ذریعہ سے رسول کریم علیہ نے مایوسی اور نا امیدی کی جڑ کاٹ کر رکھ دی ہے۔آپ نے خدا تعالیٰ سے علم پا کر فرمایا إِنَّهُ لَا يَايْسُ مِنْ رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَفِرُونَ 40 کہ خدا کی رحمت سے سوائے انکار کرنے والے کے اور کوئی مایوس نہیں ہوتا۔اب دیکھو اس اصل کے ماتحت کس حد تک امید کا دروازہ کھل جاتا ہے۔عام طور پر بدی اسی طرح پھیلتی ہے کہ جو شخص بدیوں میں مبتلا ہو چکا ہو وہ سمجھتا ہے کہ اتنی بدیاں کر لی ہیں تو اب میں کہاں نیک بن سکتا ہوں اور جب وہ یہ رائے قائم کر لیتا ہے تو وہ بدیوں میں بڑھتا جاتا ہے۔لیکن اگر کوئی یہ سمجھ لے کہ خواہ اس سے کتنی ہی بدیاں سرزد ہو چکی ہیں وہ نیک ہو سکتا ہے اور واپسی کا راستہ اس کے لئے بند نہیں ہے تو اس کے نیک بن جانے کا ہر وقت احتمال ہے۔بچے دل سے جستجو کرنے والا مذکورہ بالا اصل کے ماتحت ہی رسول کریم : کا دنیا پر یہ بھی احسان ہے کہ آپ نے یہ تعلیم ہے ضرور کامیاب ہو جاتا ہے دی ہے کہ بچی جستجو کبھی ضائع نہیں جاتی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ یہ تعلیم دیا کرتے تھے کہ وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا 41 یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ ہمارے ملنے کے لئے کوشش کریں گے ہم ضرور ان کو ہدایت دے دیں گے۔یعنی جو بھی سچے دل سے جستجو کرے گا وہ خدا کو پالے گا۔یہ اور بات ہے کہ کس طرح سے خدا تعالیٰ ہدایت دے مگر دے گا ضرور۔اور یہ کہنا کہ سکھ یا ہندو یا عیسائی کی دعا قبول نہیں ہوتی بالکل غلط ہے۔طلب ہدایت کے متعلق ہر اک کی دعا قبول ہوتی ہے۔اور اگر کوئی سچے دل سے جستجو