سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 59
سيرة النبي علي 59 جلد 3 عورتوں میں بے انصافی پھر عیاش انسان عورتوں میں بے انصافی کرتا ہے جسے خوبصورت سمجھے اس کی طرف زیادہ رغبت صلى الله رکھتا ہے اور باقیوں کو چھوڑ دیتا ہے۔مگر رسول کریم ﷺ کا یہ حال تھا کہ جب آپ بیمار ہوئے تو اس حالت میں بھی دوسروں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اس بیوی کے ہاں چلے جاتے جس کی باری ہوتی۔وفات سے تین دن قبل تک ایسا ہی کرتے رہے حتی کہ آپ کی یہ حالت دیکھ کر حضرت فاطمہ رو پڑیں اور آپ کی بیویوں نے بھی کہا کہ آپ ایک جگہ ٹھہر جائیے۔ہم بخوشی اس کی اجازت دیتی ہیں۔تب آپ ایک جگہ ٹھہر گئے 24۔جو انسان بیویوں میں انصاف کرنے کا اس قدر پابند ہو کہ مرض الموت میں بھی دوسرے کے کندھوں کا سہارا لے کر ان کے ہاں باری باری جاتا ہوا سے کون عیاش کہہ سکتا ہے۔عورتوں میں زیادہ وقت صرف کرنا پھر عیاش اپنا زیادہ وقت عورتوں کی صحبت میں گزارتا ہے۔مگر آپ کی یہ حالت تھی کہ صبح سے شام تک باہر رہتے اور رات کو جب گھر جاتے تو کھانا کھا کر لیٹ جاتے اور پھر رات کو اٹھ کر عبادت کرتے۔اس طرح بندھے ہوئے اوقات میں آپ کو عیاشی کے لئے کونسا وقت ملتا تھا۔رسول کریم ﷺ کی شادیوں کی غرض پس آپ کی کئی بیویوں کو دیکھ کر صلى الله یہ نہیں کہا جاسکتا کہ نَعُوذُ بِاللهِ آپ عیاش تھے۔دیکھنا یہ چاہئے کہ کس غرض کو مدنظر رکھ کر آپ نے شادیاں کیں۔خدا کے لئے یا اپنے نفس کے لئے ؟ اگر خدا کے لئے کیں تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آپ کا زیادہ بیویاں کرنا عیاشی کی دلیل ہے۔میں ثابت کر چکا ہوں کہ آپ کا ایک سے زیادہ بیویاں کرنا نفس کی خواہشات کے لئے نہ تھا کیونکہ انہیں تو آپ نے پورا نہیں کیا۔اس کی وجہ کوئی اور تھی اور وہ یہ تھی کہ آپ ایک ایسی قوم میں مبعوث ہوئے تھے جس کے مرد اور عورتیں سب شریعت سے بے خبر تھے۔اس قوم میں آپ نے شریعت کو رائج