سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 58

سيرة النبي عمال 58 جلد 3 لیکن اب جب کہ روپیہ آ گیا ہے اور سب لوگوں کو حصہ ملا ہے ہماری آسودگی کا بھی انتظام ہونا چاہئے اور اس تنگ زندگی سے ہمیں بچانا چاہئے۔تو اس خواہش کے جواب میں وہ انسان جسے کہا جاتا ہے کہ نَعُوذُ بِاللہ عیاش تھا اور عورتوں کی صحبت میں اس نے عمر گزاری جو جواب دیتا ہے اس کا ذکر قرآن کریم میں ان الفاظ میں آیا ب يَايُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَ أُسَرِحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنَتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا 23 - خدا تعالیٰ فرماتا ہے اے نبی ! ان بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا کے مال اور زینت کے سامان کی خواہش رکھتی ہو تو آؤ تم کو مال دے دیتا ہوں۔مگر اس حالت میں تم میری بیویاں نہیں رہ سکتیں۔مال لے کر تم مجھ سے جدا ہو جاؤ۔لیکن اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی محبت رکھتی ہو اور آخرت کی بھلائی چاہتی ہو تو پھر ان اموال کا مطالبہ نہ کرو۔اور یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ان کے لئے جو پوری طرح خدا کے احکام کی پابندی کرنے والیاں ہوں گی بہت بڑے اجر مقرر کر چھوڑے ہیں۔اس جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ میری زوجیت یا میری موجودگی میں تم کو مال نہیں مل سکتا۔اگر میری زندگی میں مال لینا چاہتی ہو تو طلاق لے لو اور الگ ہو جاؤ کہ میری دینی ذمہ داریاں مالداروں کی زندگی کی برداشت نہیں کر سکتیں۔لیکن اگر تم اس وقت صبر سے کام لو اور میرے ساتھ مل کر خدمت دین کو ترجیح دو تو پھر بھی تم کو مال مل جائے گا مگر میری وفات کے بعد ملے گا، میری موجودگی میں نہیں۔چنانچہ آپ کی بیویوں کو مال ملے اور بہت ملے مگر آپ کی وفات کے بعد۔اب دیکھو کہ اس طرح عورتوں کی خواہشات کو ٹھکرا دینے والا کیا عیاش کہلا سکتا ہے اور کیا کوئی عیاش اپنی بیویوں کی مال وزینت کی خواہش سن کر انہیں کہہ سکتا ہے کہ زینت کے سامان چاہئیں تو طلاق لے لو؟