سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 57
سيرة النبي علي 57 جلد 3 "Upon this wife, thus chosen in the very blossom of her years, The Prophet doted more passionately than upon any of those whom he subsequently married-" 21 یعنی اس طرح چنی ہوئی یہ بیوی (عائشہ) جس سے آپ نے اس کے عنفوانِ شباب میں بیاہ کیا ہے ایسی تھی کہ جس پر نبی اپنی تمام دوسری بیبیوں سے جو بعد میں بیا ہی گئیں فریفتہ تھا۔یہ ایک دشمن اور سخت دشمن کی شہادت ہے۔اگر نَعُوذُ بِاللهِ آپ عیاش ہوتے تو آپ عائشہ کے بعد ان سے زیادہ خوبصورت نہایت نو جوانی کی عمر کی بیویوں کو تلاش کرتے۔مگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔اور ایسی عورتوں سے شادی کی جو عائشہ کا مقابلہ اپنی عمر اور اپنی ظاہری خوبی کے لحاظ سے نہیں کرسکیں اور ایسی حالت میں شادی کی جب کہ آپ عائشہ کے والد کے اخلاص اور خود ان کے زہد اور تقویٰ کی وجہ سے عائشہ سے کمال محبت رکھتے تھے۔کیا یہ عیاشی کہلا سکتی ہے؟ مزامیر پھر عیاشی کے لئے مزا میر ضروری ہوتے ہیں۔مگر رسول کریم ہو نے ان کے متعلق فرما دیا ہے کہ یہ شیطانی آلے ہیں 22۔یاد رکھو کہ ایسے لوگ تو ہو سکتے ہیں جو عیاش نہ ہوں اور باجے سنیں مگر کوئی ایسا عیاش نہیں ہو سکتا جو مزامیر نہ سنتا ہو۔مگر محمد ہے وہ انسان تھے جو مزامیر کو مٹانے والے تھے۔اگر آپ نَعُوذُ بِاللهِ عیاش ہوتے تو پھر کس طرح ممکن تھا کہ ایسا کرتے۔صل الله پھر عیاش انسان عورتوں کی خواہشوں کا عورتوں کی خواہشوں کی پابندی پابند ہوتا ہے۔مگر رسول کریم ﷺ کا یہ حال تھا کہ جب خیبر کا علاقہ فتح ہوا اور وہاں کے ٹیکس کی ایک معقول رقم آنے لگی اور مسلمانوں کے گھروں میں دولت اور فراوانی آ گئی تو آپ کی بیویوں نے بھی جن میں سے اکثر آسودہ حال گھرانوں کی لڑکیاں تھیں خواہش کی کہ ہم بہت تنگی میں گزارہ کرتی ہیں۔اُس وقت تو ہم نے اس وجہ سے کچھ نہیں کہا کہ روپیہ تھا ہی نہیں