سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 51
سيرة النبي م 51 جلد 3 الله منتقی نہیں بنائے جا سکتے۔یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ یہ لوگ جن کے تقویٰ، جن کی دیانت، جن کے ایثار، جن کی سادگی اور جن کی قومی غمخواری کی تمام دنیا قائل اور مقر ہے رسول کریم ﷺ کی صحبت میں ہر وقت رہنے کے بعد اگر نَعُوذُ بِاللهِ یہ صفات آپ میں ان لوگوں سے ہزاروں گنے زیادہ نہیں پائی جاتی تھیں تو ان اعلیٰ درجہ کے اخلاق کے ظاہر کرنے والے ہوتے اور پھر یہ دعوی کرتے کہ یہ اخلاق ان کو رسول کریم ع کے سمندر میں سے ایک قطرہ کے برابر ملے ہیں۔الله حضرت عثمان کی زندگی بھی حقیقتاً بے عیب تھی۔گو بعض تاریخی غلطیوں کی وجہ سے لوگوں نے اسے اچھی طرح محسوس نہیں کیا۔مگر حضرت علیؓ جو چوتھے خلیفہ ہیں اور نہ صرف خلیفہ ہی بلکہ بچپن سے آنحضرت ﷺ کی گود میں پلے تھے اور آپ کے گھر میں رہے تھے اور آپ کے داماد تھے ان کی نیکی ، ان کے زہد، ان کی بے نفسی اور ان کی پاکیزگی کے دشمنانِ اسلام بھی قائل ہیں۔میں پوچھتا ہوں علی ان اعتراضات کی موجودگی میں جو آنحضرت ﷺ کی ذات پر کئے جاتے ہیں اوپر کی صفات کو کہاں سے پاسکتے تھے۔اور اگر یہ اخلاق ان کے ذاتی تھے تو پھر میں پوچھتا ہوں کہ ایسے اعلیٰ درجہ کے اخلاق کے باوجود وہ حضرت رسول کریم ﷺ کے مخلص کیوں رہے۔پھر ان چاروں خلفاء کی ہی شرط نہیں رسول کریم ﷺ نے ایک قوم کی قوم ایسی پیدا کر دی جو عدل و انصاف کی مجسمہ تھی۔حتی کہ شام کے یہودیوں نے ہی نہیں مسیحیوں تک نے مسلمانوں کے شام کو چھوڑنے کا ارادہ معلوم کر کے ایک وفد بھیجا کہ ہمیں اپنے ہم مذہب مسیحیوں کی حکومت منظور نہیں آپ لوگ یہاں رہیں ہم ہر طرح آپ کی مدد کریں گے۔کیونکہ آپ لوگوں کے ہاتھوں میں ہماری جانیں اور ہماری عزتیں اور ہمارے مال محفوظ ہیں 18۔اب خدا را غور کرو کہ اگر محمد رسول اللہ ﷺ میں غیر معمولی تقدس بلکہ تقدیس کی طاقت نہ ہوتی تو عرب کے غیر متمدن لوگ ڈاکوں اور جوئے اور شراب میں فخر محسوس کرنے والے اس قسم کا تغیر کہاں سے پیدا کر لیتے اور عرب کی