سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 50

سيرة النبي علي 50 جلد 3 صلى الله نے عمر کو بھی مار دیا ہے۔پھر اس نے کہا اُعُلُ هُبَل۔اُعْلُ هُبَل هُبَل (جو مکہ کا ایک بت تھا ) کی شان بلند ہو۔کیونکہ ہم نے بتوں کے مخالفوں کو مار دیا ہے۔اس پر رسول کریم ﷺ جو بھی فرما چکے تھے کہ خاموش رہو اور کوئی جواب نہ دو کیونکہ مصلحت اسی میں تھی ، بہت سے مسلمان زخمی تھے اور خطرہ تھا کہ کفار پھر لوٹ کر ان پر حملہ آور نہ ہوں، فرمانے لگے کہ جواب کیوں نہیں دیتے؟ کہو اللَّهُ أَعْلَى وَ أَجَلُّ اللَّهُ أَعْلَى وَ اَجَلُّ 17 - اللہ ہی عزت والا اور شان والا ہے۔اللہ ہی عزت والا اور شان والا ہے۔اب دیکھو کہ باوجود ایسے نازک موقع کے کہ بہت کثرت سے مسلمان زخمی پڑے تھے اور بظاہر مسلمانوں کو شکست ہو گئی تھی آپ نے خدا تعالیٰ کی توحید پر حرف آتے دیکھ کر خاموش رہنے کو پسند نہ کیا۔حالانکہ اپنی موت کی خبر کی تردید نہ کرنے دی۔اُس وقت بولنے کا صرف یہی نتیجہ نظر آتا تھا کہ دشمن حملہ کر کے سب کو مار ڈالے۔مگر جب آپ نے خدا تعالیٰ کی تحقیر سنی تو فوراً جواب دینے کا ارشاد فرمایا۔رسول کریم نے کے پیدا کردہ پھل تیسرا ثبوت آپ کی تقدیس کا وہ پھل ہیں جو آپ نے پیدا کئے اور صل اس کے لئے میں حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کو پیش کرتا ہوں۔متعصب سے متعصب عیسائی جو رسول کریم ﷺ پر ناپاک سے ناپاک حملے کرتے ہیں وہ بھی کہتے ہیں ابوبکر اور عمر بہت اچھے انسان تھے۔وجہ یہ کہ انہوں نے دنیا کے لئے اتنی قربانیاں کی ہیں کہ دشمن بھی ان کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہیں۔مگر جب دشمن یہ مانتے ہیں کہ ابو بکر اور عمر بہت اعلیٰ انسان تھے جنہوں نے دنیا کو بے شمار فوائد پہنچائے تو سوال یہ ہے کہ کیا ایسے مفید وجود نَعُوذُ بِاللہ ایک ٹھگ اور عیاش نے پیدا کر دیئے؟ وہ شخص جس کی نظر دوسروں کے مال پر ہو وہ کہاں ا انسان پیدا کر سکتا ہے جو اپنا مال بھی خدا کی راہ میں لٹا دیں۔ٹھگوں سے ٹھگ ہی پیدا ہوتے ہیں اور عیاشوں سے عیاش ہی بنتے ہیں۔کبھی ٹھگوں سے نیک اور عیاشوں سے