سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 490
سيرة النبي علي 490 جلد 3 وو کسری کی ہلاکت کا معجزہ حضرت مصلح موعود 20 جنوری 1933 ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔صلى الله رسول کریم ہے کے زمانہ میں یہود کی خفیہ ریشہ دوانیوں کی وجہ سے ایران کے بادشاہ کو جو آج کل کی انگریزی حکومت کی طرح نصف کرہ عالم پر قابض تھا اور تمام ایشیا میں اس کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی اسے رسول کریم ﷺ کے متعلق خیال پیدا ہوا کہ وہ میرے مخالف ہیں اور شاید میری سرحد پر فساد کرنا چاہتے ہیں۔اس نے اپنے یمن کے گورنر کے نام خط لکھا کہ میں نے سنا ہے عرب میں ایک ایسا شخص پیدا ہوا ہے جو نبوت کا مدعی ہے، تم فوراً اسے گرفتار کر کے میرے پاس بھیج دو۔ایرانی حکومت کا جو دبد بہ اور رعب اُس زمانہ میں تھا اور جس قدر شوکت اسے حاصل تھی اس کو دیکھتے ہوئے یمن کے گورنر نے گرفتاری کے لئے کوئی فوج بھیجنے کی ضرورت محسوس نہ کی بلکہ صرف تین آدمی بھیج دیئے اور انہیں حکم دیا کہ جا کر اس شخص کو لے آؤ۔ساتھ ہی نصیحت کی کہ شاید عرب کا باشندہ ہونے کی وجہ سے وہ کسریٰ کی شان و شوکت سے ناواقف ہو اس لئے اسے کہنا کہ وہ بغیر کسی حجت اور قیل وقال کے آ جائے۔میں کسری کے پاس اس کی سفارش کروں گا اور کہوں گا کہ اگر اس کا قصور بھی ہے تو معاف کر دے۔وہ لوگ رسول کریم ﷺ کے پاس آئے اور آ کر اپنا یہ مقصد بیان کیا کہ ہم اس لئے آئے ہیں کہ تا آپ کو گورنریمن کے پاس حاضر کیا جائے۔آپ نے فرمایا میں تیسرے دن اس کا جواب دوں گا۔انہوں نے کہا ہم خیر خواہی سے آپ کو کہتے ہیں کہ کسی نے کسری کے پاس آپ کی جھوٹی شکایت کر دی ہے۔اگر آپ گورنر یمن کے پاس حاضر