سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 488
سيرة النبي علي 488 جلد 3 رسول کریم علیہ کے سمجھانے کا انداز 30 دسمبر 1932ء کو بیت نور قادیان میں انجمن انصار اللہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود نے فرمایا:۔بدر کی جنگ میں ایک عورت کا بچہ گم ہو گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ جنگ کے بعد وہ گھبرائی ہوئی پھرتی، کبھی ادھر جاتی اور کبھی اُدھر ، آخر تلاش کرتے کرتے اُسے اُس کا بچہ مل گیا ، وہ اُسے اپنی چھاتی سے لگا کر ایک طرف بیٹھ گئی ، اُس کے چہرہ سے خوشی کے آنسو اور اطمینان کے آثار ظاہر ہوئے ، تب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا اس عورت کی طرف دیکھو یہ کس طرح گھبرائی ہوئی پھرتی تھی اور اب اسے بچہ ملنے کے بعد کیسا اطمینان ہو گیا۔پھر آپ نے 66 فرمایا اس ماں کو اپنا بچہ ملنے سے اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی اللہ تعالیٰ کو اُس وقت ہوتی۔ب گنہگار بندہ اُس کے حضور تو بہ کرتا ہے 1۔“ الفضل 8 جنوری 1933 ء ) 1: بخاری کتاب الادب باب رحمة الولد و تقبيله ومعانقته صفحه 1050 حدیث نمبر 5999 مطبوعه رياض الطبعة الثانية