سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 481
سيرة النبي عمال 481 جلد 3 ہوا کہ آپ کی مدد کے لئے پیدائش سے بھی پہلے سے سامان ہورہے تھے ) اس طرح خاص تعلیم اور اس کی تفصیلات خاص آسمانی تو جہات کا نتیجہ ہیں۔غرض صاف طور پر یہ سلسلہ آسمانی اور زمینی بادشاہت کے ایک ہونے پر دلالت کرتا ہے اور ان سب امور کا ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ آسمانی اور زمینی بادشاہتوں کا اتحاد ایک بالا اور بالا رادہ ہستی کا ثبوت دے رہا ہے۔فَسُبْحَانَ اللَّهِ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ۔یہ میں نے ہی نہیں کہا بلکہ حضرت مسیح ناصرٹی بھی اس دلیل میں میرے ساتھ متفق ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح کی یہ دعا کہ ” تیری بادشاہت آئے۔تیری مراد جیسی آسمان پر ہے زمین پر بھی آئے 87۔اس سے حضرت مسیح کا یہی مطلب ہے کہ ظہور محمد علی کیلئے دعا کرو کہ اسی کے ذریعہ سے آسمانی بادشاہت کا ظہور زمین پر ہوگا۔اب دیکھو یسعیاہ باب 9 اور حضرت مسیح کی پیشگوئی متی باب 21 کس رنگ میں پوری ہوئی 88 محمد ﷺ کی آمد کے متعلق کہا گیا تھا کہ وہ خدائے قادر ہوگا اور مالک ارض و سما ء ہوگا (یعنی باغ کا مالک )۔اس کے یہی معنی تھے کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کا زبر دست ثبوت اور آسمانی اور زمینی نظاموں کا ایک بالا رادہ ہستی کے ہاتھ میں ہونے کا ثبوت آپ کی ذات میں ملے گا۔اور ان کے ذریعہ سے لوگ قطعی طور پر خدا تعالیٰ کی ہستی کا علم حاصل کریں گے۔پس آپ کا آنا خدا کا آنا ہوگا۔“ 1: البقرة: 130 (الفضل 21 فروری 1933ء) 2: استثناء باب 18 آیت 18 برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لندن مطبوعہ 1887ء 3 استثناء باب 33 آیت 2 برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لندن مطبوعہ 1870ء 4 فصل الخطاب جلد 2 صفحہ 38 مطبع مجتبائی دہلی 1305ھ 5: غزل الغزلات باب 5 آیت 8 نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ 1870ء 6: غزل الغزلات باب 5 آیت 9 نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ 1870ء(مفہوما )